اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں ابتر صورتحال کے پیش نظر امداد بھیج رہا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نگران وزیر اعظم اس وقت بی آر آئی فورم میں شرکت کیلئے چین کے دورے پر ہیں، انہوں نے گزشتہ روز چینی وزیر اعظم سے ملاقات کی جس میں سی پیک کے اگلے مرحلے اور دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعظم آج چینی صدر سے ملاقات کریں گے جبکہ سائیڈ لائنز میں انہوں نے سری لنکا، کینیا اور روسی صدر سے ملاقاتیں کیں۔ نگران وزیر اعظم آج رات بیجنگ سے ارومچی جائیں گے اور کل وطن واپس پہنچیں گے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں سعودی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں میں غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انکا کہنا تھا کہ غزہ کی صورت حال پر گہری تشویش ہے، اسپتال پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ محاصرہ ختم کیا جائے گا اور آزاد خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان غزہ میں ابتر صورتحال کے پیش نظر امداد بھیج رہا ہے، آج سہہ پہر ایک چارٹرڈ پرواز امدای سامان لے کر مصر روانہ ہو گی، اس پروز میں سینکڑوں ٹن امدادی سامان ہے جو غزہ پہنچے گا۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطی میں امن کا خواہاں ہے، پاکستان نے طبی سامان کمبل اور خیموں پر مبنی امدادی سامان کا خصوصی طیارہ غزہ کیلئے روانہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان او آئی سی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کرتا ہے، اجلاس او آئی سی ممالک کے اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں دیگر مطالبات کے ساتھ غزہ میں ایک امدادی راہداری کے قیام کا مطالبہ کیا گیا، ہمیں غزہ کی صورتحال پر قومی مایوسی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کو علم ہے کہ پاکستان کا ایک پرامن خدوخال ہے، اسرائیلی وزیر اعظم کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان بھارت سمیت کسی بھی ملک کے اندروانی معاملات پر بیان بازی نہیں کرتا۔
ترجمان نے بھارتی قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کے لئے پل کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے، پاکستان تمام ممالک کو سہولت دینے کے لئے تیار ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ افسوس کہ جنوبی ایشیا میں کی صورتحال علاقائی رابطوں کے لئے مناسب نہیں، اجیت دوول کا بیان حقیقت سے برعکس ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















