خیبر پختونخوا حکومت نے اگلے چار ماہ کیلئے ترقیاتی بجٹ تیار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ خزانہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ چار ماہ کیلئے ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 71 ارب روپے لگایا گیا ہے، بندوبستی اضلاع کیلئے چار ماہ کیلئے 52 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی کاموں کیلئے 19 ارب روپے مختص کیے جائینگے، مقامی حکومتوں کیلئے 10 ارب 33 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ادارے نے مزید کہا کہ ضم اضلاع میں تیز تر ترقیاتی پروگرام کیلئے 10 ارب 33 کروڑ روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا نگران حکومت نے دوسرا سہ ماہی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
دستاویز میں کہا گیا کہ بجٹ میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشنز کے لیے 563 ملین روپے مختص کیے جائیں گے، اس بجٹ میں ایکسائز ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 428 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق صنعت کے لیے 340 ملین روپے، جس میں تنخواہوں کے لیے 202 ملین جبکہ نان سیلری بجٹ کے لیے 87 ملین رکھے جائیں گے، محکمہ معدنیات کے لیے 652 ملین روپے رکھے جائیں گے جس میں 293 ملین تنخواہوں اور 308 ملین نان سیلری بجٹ ہو گا۔
جاری کردہ دستاویز کے مطابق ٹیوٹا کے لیے 1 ہزار 36 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، 738 ملین روپے تنخواہوں اور 230 ملین نان سیلری بجٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ لیبر کے لیے 250 ملین مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں 157 تنخواؤں اور 73 ملین نان سیلری بجٹ پر مشتمل ہو گا۔



















