اسلام آباد: پاکستان نے روس کے ساتھ طویل المدتی تیل خریداری معاہدہ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق روس سے سستے تیل کی خریداری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پاکستان کی جانب سے روس کے ساتھ طویل المدتی معاہدہ کرلیا گیا ہے جس کے تحت مقامی ریفائنریاں براہ راست تیل خرید سکیں گی۔
ذرائع وزارت پیٹرولیم نے بتایا کہ ریگولر سپلائی کے بعد گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدہ ہوگا، روس سے کمرشل معاہدے کا پہلا کار گو دسمبر میں پاکستان پہنچے گا جو کہ ایک لاکھ میٹرک ٹن خام تیل پر مشتمل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق روس پاکستان کو پورٹ پر تیل پہنچائے گا، روسی تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل ہوگی، تاہم کمرشل معاہدے میں جی سیون ممالک کی روسی تیل کی قمیت کی حد کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
حکام وزارت پیٹرولیم نے بتایا کہ روسی خام تیل کرایہ پریمیم نکال کر بھی عام مارکیٹ سے دس ڈالر فی بیرل سستا ہے جبکہ پہلے ٹسٹ کارگو میں بھی پاکستان کو چارکروڑ ڈالر کی بچت ہوئی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے تیل کے معاہدے پر بات چیت جاری تھی تاہم معاہدہ اپریل میں طے پایا۔
سابق وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ روسی تیل کی پہلی کھیپ مئی کے آخر میں کراچی آنے کے امکانات ہیں، اگر پہلی کھیپ آسانی سے ملک میں آگئی تو پاکستان 100,000 بیرل یومیہ روسی خام تیل درآمد کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے جو روسی تیل خریدنے سے متعلق کمرشل ڈیل کی ہے اس میں ملک کو فائدہ ہے، پاکستان کو روسی تیل خریدنے سے کوئی نقصان نہیں۔
دوسری جانب روس سے تیل پاکستان آنے کے بارے میں لوگ مختلف قیاس آرائیاں کررہے تھے تاہم سب سے اہم سوال جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے وہ یہ کہ درآمد شدہ تیل کا ایندھن کی بلند قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
سابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے اپنے ایک انٹرویو میں اس کا جواب نفی میں دیا تھا اور ان تمام قیاس آرائیوں کی تردید کردی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ 100 روپے تک کا اتنا زیادہ فرق تو نہیں پڑے گا لیکن قیمت ضرور کم ہوگی اگر روسی تیل کی خاطر خواہ مقدار پاکستان آئے گی، ابھی ابتدا میں تھوڑی مقدار پاکستان آرہی ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چھ ماہ یا سال کے بعد جب روس سے تیل کی زیادہ مقدار آئے گی تو یقیناً اس سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یاد رہے کہ مئی 2023 میں روسی جہاز خام تیل لے کر کراچی بندرگاہ پہنچا تھا، مذکورہ روسی جہاز میں 45 ہزار میٹرک ٹن تیل لدا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















