Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نواز شریف 24 اکتوبر کو عدالت کے سامنے سرنڈر کریں گے، اعظم نذیر تارڑ

سابق وفاقی وزیر اور (ن) لیگ کے رہنما اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ نواز شریف 24 اکتوبر کو عدالت کے سامنے سرنڈر کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور (ن) لیگ کے رہنما اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس معاملے کو اتنا اشو کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ہم نے عدالت میں سابق وزیراعظم کی بیرون ملک رہنے کی وجہ عدالت کے سامنے بیان کی تھی، یہ ایک بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف 24 اکتوبر کو عدالت کے سامنے سرنڈر کریں گے، ہماری لیگل ٹیم انشاء اللہ عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف جتنا عرصہ باہر رہے اس دوران ان کی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرواتے رہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے دائمی وارنٹ معطل کر دیے۔

توشہ خانہ نیب کیس میں غیر قانونی طریقے سے گاڑیاں لینے کے معاملے پراحتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت نوازشریف کے وکیل نے دائمی وارنٹ معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ نواز شریف میڈیکل بنیادوں پر بیرون ملک گئے تھے، نواز شریف کی پٹیشن آج تک لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے 24 اکتوبرتک دائمی وارنٹ معطل کردیے اوروطن واپسی پرنوازشریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے دلائل مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی العزیزیہ اورایون فیلڈ ریفرنس میں 24 اکتوبرتک حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے حکم دیا کہ کہ نوازشریف کو پاکستان پہنچنے پرگرفتارنہ کیا جائے۔

چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی جبکہ نوازشریف کے وکیل امجد پرویزعدالت کے سامنے پیش ہوئے اور دلائل دیے، ان کے علاوہ نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکوٹر نعیم سنگیڑا بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ آپ کب سے اس کیس سے منسلک ہیں؟ جس پرنعیم سنگیڑانے جواب دیا کہ تین سال سے نیب میں ہوں اپیل میں بھی پیش ہوتا رہا ہوں، عدالت نے نوازشریف کو سرنڈر کرنے پر اپیل بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ کیا نیب کو نوازشریف کی حفاظتی ضمانت پر اعتراض ہے؟ جس پرنیب کے پراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ نیب کو نوازشریف کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

جسٹس میاں گل حسن نے پوچھا کہ آپ کو یہ ہدایات کس نے دی ہیں؟ جس پرنعیم سنگیڑا نے جواب دیا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے ہدایات جاری کی ہیں جس کے بعد عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ جو ہدایات آپ کو ملی ہیں وہ تحریری طور پردیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کو حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ نوازشریف کو 24 اکتوبرکو عدالت میں پیش ہوں اورحکم دیا کہ نوازشریف کو پاکستان پہنچنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں