لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے پیش نظر محکموں کے عملے کو فوری سائیکل استعمال کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالتوں کے اردگرد پارکنگ کا معقول انتظام نہ ہونے اور ریلوے گالف کلب ایڈمنسٹریٹر کو تبدیل نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے ڈی جی ماحولیات کو عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس دیتے ہوئے لاہور میں درخت لگانے کی ہدایت کی۔ لاہور ہائیکورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو بھی فوری بند کرنے کا حکم دے دیا۔
دورانِ سماعت کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ میں نے قصور جا کر فیکٹریوں اور کارخانوں کو وارننگ دی ہے، میں سرپرائز وزٹ کروں گا۔ محکمہ فاریسٹ کے ذریعے شہر میں پودے لگائے جارہے ہیں۔
کمشنر لاہور نے کہا کہ ہم عوام کو آگاہی دے رہے ہیں کہ وہ فیملی کے نام پر پودے لگائیں۔ اجازت کے بغیر سڑکیں اور جگہیں کھودنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے مؤقف اپنایا کہ ڈی سی لاہور صرف آفس میں بیٹھی رہتی ہیں کچھ نہیں کرتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ڈی سی اور تھانوں میں بیٹھے لوگ باہر نکلیں۔
عدالت نے آلودگی کے خاتمے پر عمل کرنے والے اداروں کو فنڈز فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت احکامات پر 4 ماہ میں عمل کر لے تو اسموگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















