شیخ رشید نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی ایک ضدی انسان ہے۔
تفصیلات کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پتا ہے میری باتوں پر یقین نہیں کریں گے مگر کرلیں، پہلے دن سے اپنی عظیم افواج کے ساتھ ہوں۔
شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج دنیاکی عظیم فوج ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو ہمیشہ کہا فوج کے ساتھ بنا کر رکھنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق عوامی مسلم لیگ سے ہے، میری پارٹی ایک نشست کی ہے، قومی سلامتی کمیٹی کی سائفر سے متعلق میٹنگ میں شامل تھا۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی سیاستدان کو کسی فوجی افسر کا نام نہیں لینا چاہیے،3لوگ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے فوج سے مذاکرات کر رہے تھے اور آج ان تینوں لوگوں نے اپنی جماعت بنالی ہے جبکہ میری بھی کوشش تھی کہ مذاکرات میں حصہ ڈالوں۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی فوج سے لڑائی بنتی ہی نہیں تھی، سیاستدانوں اور اداروں کو مل کر چلنا چاہیے، سمجھتا ہوں معاملات کو اب سلجھانا چاہیے جبکہ جولوگ مجھے جانتے ہیں انہیں پتا ہےفوج کے خلاف نہیں جاسکتا۔
شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ اداروں کے بغیر ملک نہیں چل سکتا،9 اور 10مئی کے واقعات کی مذمت کی لیکن کسی نے سنی نہیں ،9مئی کے واقعات میں غیر سیاسی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے مقاصد، رابطے وغیرہ کی باتوں کا اب کوئی فائدہ نہیں، فوج کا مسئلہ فوج کو حل کرنا چاہیے سیاستدانوں کو دور رہنا چاہیے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ایک ضدی انسان ہے، پی ڈی ایم سے ہر محاز پر سیاسی لڑائی لڑوں گا۔
شیخ رشید نے کہا کہ 9 مئی قوم کیلیے سیاہ ترین دن ہے، 9مئی واقعات کی ہر جمعے کے خطبے میں مذمت کرنی چاہیے، چلے میں عہد کرکے آیا ہوں کہ جو بے گناہ ہیں انہیں چھڑواؤں گا جبکہ جو لوگ اندر ہیں انہیں کم از کم ایک بار معافی دلواؤں گا اور ان کیلئے عام معافی کا اعلان کراؤں گا۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے مزید کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ منصوبہ بندی کا حصہ بھی ہوسکتا ہے جبکہ میرےخلاف ٹوئٹس کے علاوہ کچھ بھی نہیں نکلا، میں نہیں سمجھتا پی ٹی آئی کے لوگ میرے مخالف ہوں گے۔



















