عام انتخابات کا شیڈول جاری نہ کرنے کے خلاف آج سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ عام انتخابات سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرے گا۔
قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں انتخابات کا انعقاد ایک آئینی فریضہ تھا جسے ادا نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے آئینی مدت میں انتخابات کرانے سے متعلق درخواست دائر کی تھی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے مردم شماری کے منظوری سے متعلق مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں قانونی نکتہ اٹھایا گیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نگران وزرائے اعلیٰ کے پاس مینڈیٹ ہی نہیں تھا تو وہ کیسے کونسل کے اجلاس میں شریک ہوکر منظوری دے سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے بھی عام انتخابات کے فوری انعقاد سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم اب ان درخواستوں پر پہلی سماعت آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تین رکنی بینچ کرے گا۔
سپریم کورٹ بار صدر عابد زبیری نے ڈیجیٹل مردم شماری منظوری کو چیلنج کیا گیا تھا، درخواست میں 90 دنوں میں انتخابات کرانے کی استدعا کی گئی ہے، چیف جسٹس فائز عیسی، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ کل آئینی درخواست پر سماعت کرے گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















