پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن میں تاخیر کا مطلب الیکشن سے انکار ہے۔
سابق وفاقی وزیر بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے تحت دستورِ پاکستان کے 50 برسوں کی تکمیل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شفاف الیکشن میں سب کو لیول پلئنگ فیلڈ ملنی چاہیے، پیپلزپارٹی جمہوری جماعت ہے، الیکشن کا مطالبہ ہمارا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی انتخابات کی تاریخ مانگ رہی ہے، الیکشن میں تاخیر کا مطلب الیکشن سے انکار ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہر سیاستدان نے خود کو احتساب کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا، سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں۔
انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آئین کی بالادستی کے لیے کام کیا، سپریم کورٹ نے آمر کے خلاف اپنا کردار ادا کیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ آئین کی بحالی کے لیے بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی، آئین کسی بھی ریاست کی روح ہوتی ہے، جمہوریت آئین کا اور آئین انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔
واضح رہے کہ عام انتخابات کیس میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
سپریم کورٹ میں انتخابات کیس سے متعلق چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے حکم نامے میں کہا کہ انتخابات سے متعلق درخواستوں میں کئی مختلف استدعائیں کی گئی، درخواستوں کو صدرپاکستان کو بذریعہ سیکرٹری فریق بنایا گیا۔ عام طور پر صدر ممککت معاملہ پر کوئی صدارتی ریفرنس دائر کیا۔ عام طور پر صدر مملکت صدارتی ریفرنس بھیجتے رہتے ہیں۔ صدر مملکت کوآئینی استثنی حاصل ہے۔
حکم نامے میں لکھا گیا کہ درخواست گزاروں اور وکلا نے کہا کہ انتخابات نہیں کروائے جا رہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مردم شماری کے نتائج کے بعد حلقہ بندیاں کی جا رہی ہیں، عدالت کو بتایا گیا مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری نتائج کی منظوری دی جبکہ ادارہ شماریات نے مردم شماری کے نتائج کو گزٹ کیا اور اپریل 2021 مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کا فیصلہ ہوا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے حکم نامے میں لکھا کہ درخواست گزاروں کے مطابق الیکشن کمیشن مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں شروع کردی ہیں۔ حلقہ بندیوں کا کام 14 دسمبر تک مکمل ہوگا۔ درخواست گزار مردم شماری کے عمل، اس کی منظوری اور حلقہ بندیوں کے عمل در مطمئن نہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ یہ سارا عمل انتخابات کی تاخیر کا بہانہ ہے، الیکشن 90 دنوں میں کرانا آئینی تقاضا ہے، حلقہ ببدیوں اور مردم شماری سے 90 دنوں میں الیکشن ممکن نہیں۔
سپریم کورٹ نے حکم نامے میں مزید لکھا کہ جب درخواست گزاروں سے پوچھا گیا کہ الیکشن تاریخ نہ دینے کا ذمہ دار کون ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالتی سوال کا مختلف جواب دیا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ آج الیکشن کا فیصلہ ہو تو 90 دنوں میں الیکشن ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کے وکیل نے آرٹیکل 254 کا حوالہ دیا۔
سپریم کورٹ میں 90 روز میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت کی تفصیل بھی پڑھیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















