سعید غنی نے کہا ہے کہ کسی جماعت پر پابندی ہماری سوچ نہیں۔
تفصیلات کے مطابق بیگم نصرت بھٹو کے لئے پیپلز سیکریٹیریٹ میں قرآن خوانی اور دعائیہ تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں منتخب بلدیاتی نمائندوں اور سابق ارکان اسمبلی بھی شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ نصرت بھٹو کی قربانی سے پارٹی یہاں تک پہنچی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں عمران خان لاڈلہ تھا اس مرتبہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، سزا ان کو ملے جنہوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا۔
پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ کسی جماعت پر پابندی ہماری سوچ نہیں،تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔
علاوہ ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی نے نصرت بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ نصرت بھٹو نے دو بیٹوں اور بیٹی کی شہادت دیکھی ۔
یاد رہے کہ نصرت بھٹو نے ایک بلند حوصلہ، عزم و ہمت کی ایک داستان تھی، بیگم نصرت بھٹو کو پاکستان میں جمہوریت کیلئے کسی بھی آمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی پہلی خاتون راہنما ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
نصرت بھٹو نے اپنے دور کی بدترین آمریت کے خلاف پرامن سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا ، نصرت بھٹو نے ہر دکھ سکھ میں ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا، بھٹو کی شہادت کے بعد نامساعد حالات میں پارٹی کی قیادت کی اور بھٹو کے مشن کو آگے بڑھایا۔
بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی میں جمہوریت کی خاطر اپنے شوہر اور تین بچوں کی قربانیاں دی۔ان کے شوہر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اکیاون سال کی عمر میں پھانسی ہوئی، ان کے جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی ستائیس برس کی عمر میں فرانس میں مشکوک حالات میں موت واقع ہوئی جب کہ ان کے بڑے صاحبزادے مرتضی بھٹو کی کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی۔
بیگم نصرت بھٹو کی بڑی صاحبزادی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں سنہ دو ہزار سات کو دہشت گردی کے حملے میں چون برس کی عمر میں قتل کیا گیا۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی بیوہ‘ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی والدہ‘ صدرآصف علی زرداری کی خوشدامن‘ سابق خاتون اول بیگم نصرت بھٹو کا دبئی میں 23 اکتوبر 2011 کو 82 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















