اسلام آباد: حکومت پاکستان بیرونی سیکٹر کے چیلنجوں کے باوجود 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت ملنے والے 71 کروڑ ڈالر قرضے کی اگلی قسط کیلئے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کی کامیابی کیلئے پرامید ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت ملنے والے 71 کروڑ ڈالر قرضے کی اگلی قسط کیلئے مذاکرات 2 نومبرکو ہوں گے۔
اس حوالے سے ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 3 ارب ڈالر اسٹینڈ بائی معاہدے کے مذاکرات کا آغاز 2 نومبر سے ہوگا، جس میں آئی ایم ایف ٹیم کی قیادت ناتھن پورٹر کریں گے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ جائزے میں کرائی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کیا ہے۔ گردشی قرضوں میں کمی اور ایف بی آر محصولات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائعکے مطابق مذاکرات میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کا ایکسچینج ریٹ اور مانیٹری پالیسی بھی زیر بحث آئے گی۔
ذرائع وزارت خزانہ نے مزید بتایا کہ اسٹاف سطح کے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو آئی ایم ایف بورڈ دسمبر میں اگلی قسط کی منظوری دے گا۔
گزشتہ روز آئی ایم ایف سے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے تحت مذاکرات سے متعلق وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو خطوط لکھ دیے تھے، تاہم وزارت خزانہ نے 19 وزارتوں اور ڈویژنز کو خطوط ارسال کیے۔
وزرات خزانہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے جائزہ مذاکرات جلد شروع ہونگے، تاہم تمام متعلقہ وزارتیں گزشتہ جائزے میں کرائی گئی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کی رپورٹ تیار کریں۔
ذرائع وزرات خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف حکام کو تمام وزارتوں کی عملدرآمد رپورٹ آمدہ جائزہ میں پیش کی جائے گی جبکہ وزارت توانائی گردشی قرضوں میں کمی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق رپورٹ دے۔
وزرات خزانہ کی جانب سے خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ کے اقتصادی جائزہ مذاکرات اکتوبر کے آخری ہفتے میں ہونے کا امکان تھا۔ جائزہ مذاکرات میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی بڑھانے کے اقدامات پر بات ہوگی اور وزارت توانائی سے گردشی قرضہ ختم کرنے کے منصوبہ زیر غور آئے گا جبکہ اسٹیٹ بنک سے مارکیٹ کی بنیاد پر ڈالر جی شرح تبادلہ اور دیگر اقدامات پر بات ہوگی۔
اس کے علاوہ نیپرا اور اوگرا سے بجلی اور گیس کے نرخوں پر بات ہوگی، نیپرا اور اوگرا کے جاری فیصلوں پر حکومتی نوٹیفیکیشن جاری نہ ہونے جیسے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔
آئی ایم ایف مشن کے وزارت خزانہ کی معاشی ٹیم کے ساتھ مذاکرات سات دن جاری رہیں گے جبکہ ایکسٹرنل فنانسنگ، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان اور بانڈز کے اجرا پر بھی آئی ایم ایف مشن جائزہ لے گا اور آئی ایم ایف مشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقات اور آئندہ عام انتخابات پر بات چیت کرے گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















