پاکستان تحریک انصاف کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کا جعلی امیج گھڑنے کا منصوبہ بے نقاب ہوگیا ہے، سرکاری وسائل کے بل بوتے پر پی ٹی آئی قیادت کی جعلی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا انکشاف ہوا ہے۔
مخالفین کی کردار کشی اور ہرزہ سرائی کیلئے سوشل میڈیا ٹیموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے بجائے زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا رہا۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی آڑ میں سوشل میڈیا ٹیموں کو پی ٹی آئی کے مذموم بیانیے کو پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا اور جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کو شخصیت پرستی اور جھوٹ کے پرچار کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔
ان اکاؤنٹس کو پی ٹی آئی کے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے، پروپیگنڈا مہم، ڈس انفارمیشن، سازشی بیانیہ سازی اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سرکاری پیسوں سے ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کی مکروہ حرکت سے معاشرے میں نفرت انگیز بیانئے سے عدم استحکام کو فروغ دیا گیا۔
پروپیگنڈا اکاؤنٹس کے فالورز سرکاری وسائل سے بڑھائے گئے لیکن اختتام پر یہ اکاؤنٹ پی ٹی آئی کے سیاسی کارکنان استعمال کرتے رہے، مجموعی طور پر اس پروجیکٹ کی لاگت 870 ملین رکھی گئی تھی۔
مزید تحقیق میں پی ٹی آئی کے مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کا انکشاف ہوا جس میں سوشل میڈیا ٹیمز کو پی ٹی آئی نے غیر قانونی طور پر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا، تاہم ان ملازمین کی تنخواہ 25ہزار، 40 ہزار روپے تھی اور سرکاری فنڈز سے ان سوشل میڈیا ٹیموں پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔
پی ٹی آئی کے اس ریاست مخالف پروپیگنڈے میں شامل 800پہلے سے موجود اکاؤنٹس کی جب تحقیق کی گئی تو چشم کشا حقائق سامنے آئے، ان ملازمین میں سے 72.5 فیصد اکاؤنٹس کا 2021 سے پہلے پی ٹی آئی کی طرف کوئی سیاسی جھکاؤ ہی نہیں تھا۔
جون 2022 کے بعد 86 فیصد اکاؤنٹس نے اپنا سیاسی جھکاؤ تبدیل کر لیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پی ٹی آئی کا بیانیہ پوسٹ کرنا شروع کر دیا۔
ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیں، یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جو کہ ریاست پاکستان کے خزانے سے پیسے دے کر کروائی جا رہی تھی۔
غریبوں کی خون پسینے کی کمائی سے دیے گئے ٹیکس کا پیسہ جو پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پروپیگنڈے کے لئے جھونک دیا، پی ٹی آئی نے پارٹی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کیا اور ان کا ایسا استعمال کیا جو اخلاقیات اور شرافت کے اصولوں کے خلاف تھا۔
عوام کے پیسوں پر ریاست مخالف مواد پھیلایا گیا، ان اکاؤنٹس نے 9 مئی واقعات میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام کو اشتعال دلانے، تشدد پر بھڑکانے اور ممکنہ طور پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا اور عوام اور اداروں میں نفرت پھیلا کر دراڑیں ڈالنے کی کوششیں کیں، تاہم جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کی بھرتی کا عمل غیر قانونی اور فراڈ پر مبنی تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















