Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سیاسی اور معاشی بحرانوں کا حل دستور کی بالادستی میں پوشیدہ ہے،ترجمان تحریک انصاف

ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور معاشی بحرانوں کا حل دستور کی بالادستی میں پوشیدہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدرِمملکت ڈاکٹر عارف علوی کے انٹرویو پر پاکستان تحریک انصاف نے ردِّعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدرِمملکت کا نجی ٹی وی کو انٹرویو ملکی حالات کا ایک بے لاگ مگر جامع جائزہ ہے اور ملک میں جاری سیاسی اور آئینی بحران کے حل کی ضرورت و اہمیّت اجاگر کرتا ہے۔

ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ سربراہِ مملکت کی گفتگو میں خصوصاً صاف شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی ناگزیریت کے حوالے سے قومی امنگوں کی بازگشت خوش آئند ہے، چیئرمین تحریک انصاف کی مالی دیانت اور حبّ الوطنی پر صدرِ مملکت کی غیرمبہم شہادت قوم کے عمران خان پر اعتماد کی حقیقت کی آئینہ دار ہے۔

 تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے پیچیدہ سیاسی، قانونی، عدالتی اور معاشی بحرانوں کا حل  بلاشبہ دستور کی بالادستی اور احترام میں پوشیدہ ہے، صاف شفاف انتخابات ملک میں جمہوریت کے بقا و تسلسل کی کنجی اور پارلیمان کی ساکھ و حیثیت کے تحفظ کے ضامن ہیں، انتخابات میں شرکت کے خواہاں تمام سیاسی گروہوں اور جماعتوں کیلئے انتخابی مہم، سیاسی سرگرمیوں اور ابلاغ و نشریات کے یکساں مواقع (لیول پلیئنگ فیلڈ) کے بغیر صاف شفاف انتخابات کا تصور ہی نامکمل ہے۔

ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ صدرِ مملکت کی طرح ریاست کے تمام اداروں کو دستور کی منشا اور حکم کی روشنی میں آزادانہ، منصفانہ اور بروقت انتخابات کی اہمیّت کا اعتراف کرنا ہوگا، صدرِمملکت کی طرح قوم بھی انتخاب سمیت تمام ریاستی و حکومتی امور میں دستور کی فرمانروائی کیلئے عدالتِ عظمیٰ کی جانب دیکھتی ہے۔

تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور طاقت کے بل پر سیاسی وابستگیوں کی تبدیلی کے جاری سلسلے کے ریاست، سیاست اور سماج پر تباہ کن اثرات کا احساس بھی نہایت اہم ہے، دستور کے انحراف کی روایت پر اصرار اور جبر اور طاقت کے غیرقانونی و غیراخلاقی استعمال سے کشیدگی کو ہوا دینے کی بجائے ریاست صدرِمملکت کی گفتگو کی روشنی میں بحرانوں کے حل کی بامعنی تدبیر کرے۔

یاد رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹڑ عارف علوی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پارلیمانی نظام میں اس بات کا امکان رہتا ہےکہ حکومت مدت پوری نہ کرپائے، آئین کہتا ہے اگلا صدر منتخب ہونے تک موجودہ صدر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھےگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی مشکلات کے ساتھ جمہوریت کے نظام پر قائم ہے، پنجاب اورکے پی میں انتخابات کیلئےخط کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، پنجاب اور کے پی میں انتخابات کیلئے الیکشن کمشنر کو بلایا لیکن وہ نہ آئے۔
ڈاکٹڑ عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری کے معاملات پر مسائل آرہے تھے، پھر میں نے وزیر قانون کو بلایا تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ آپ کا یہ حق نہیں ہے، پرنسپل سیکرٹری کو ہٹا کر لکھ دیا تھا کہ میں اپنے مؤقف پرقائم ہوں۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ 6نومبر یا اس سے پہلے الیکشن کرائےجائیں تو وزارت قانون نے مجھےکہا کہ الیکشن کی تاریخ دینےکا میراحق نہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ ایک نئے بیانیےکی تلاش میں ہے جبکہ عوام نے ن لیگ کو بیانیہ تھما دیا ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے جبکہ ملک کے مستقبل کیلئے ضروری ہےکہ الیکشن صفاف اور شفاف ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حج پر گیا ہوا تھا توالیکشن ایکٹ کی ترمیم جاری ہوگئی، حج پر نہ گیا ہوتا تو الیکشن ایکٹ2017میں ترمیم پردستخط نہ کرتا، الیکشن ایکٹ2017کی شق57ون میں ترمیم آئین کے خلاف ہے۔
صدر مملکت نے یہ بھی کہا کہ میں نے ذاتی طور پر چیئرمین پی ٹی آئی کو مالیاتی امور میں ایماندار پایا، چیئرمین پی ٹی آئی ایک محب وطن پاکستانی ہیں۔
ڈاکٹڑ عارف علوی کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف ریفرنس میں نے نہیں بھیجا تھا، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس پی ایم ہاؤس سےآیا تھا بعد میں سابق وزیراعظم نے بھی کہا تھا کہ وہ ریفرنس بھیجنا نہیں چاہتے تھے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریفرنس سے کوئی تعلق نہیں مجھے وزیراعظم آفس سے آیا تھا، ہمیشہ سے تور پھوڑ کےخلاف ہوں اور میں نے ہمیشہ کہا ہے ایسا کام نہیں ہونا چاہیے جس میں توڑ پھوڑ ہو۔
صدر مملکت ڈاکٹڑ عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے، لوگوں کو عدالتوں پر بھروسہ ہے، چیف جسٹس سے قوم کو امید ہے وہ قوم کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں