Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نگران حکومت کے پاس پالیسی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ نگران حکومت کے پاس پالیسی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ عوام پر ظلم کی انتہا ہے، سردیوں کے آغاز پر گیس کی قیمت میں 193 فیصد اضافہ مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ظالمانہ اضافے سے غریب، متوسط طبقات کا چولہا بند ہوجائے گا، عوام آئی ایم ایف کی شرائط کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے فیصلہ واپس لیا جائے۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ نگران حکومت نے عوام کی جیبوں سے ساڑھے تین سوارب مزید لوٹنے کا فیصلہ کیا، نگران حکومت کا اختیار نہیں کہ پالیسی فیصلے کرے۔

یاد رہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یکم نومبر 2023 سے گیس کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافے کی منظوری دیدی ہے۔

اس حوالے سے نگران وزیر توانائی محمد علی نے بول نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی مجبوری ہے، کسی بھی حکومت کا دل نہیں کرتا کہ قیمتیں بڑھائی جائیں، گیس شعبے میں بے تحاشہ نقصان ہے اگر قیمتیں نہ بڑھائی جاتی تو مزید نقصان ہوتا۔

انکا کہنا تھا کہ حالیہ موسم سرما میں گیس کی قلت کا سامنا رہے گا، ملک میں گیس کی کمی ہے جس سے گیس فراہمی میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، سب نے مل جل کر ہی ملک کو اس مشکل وقت سے نکالنا ہے۔

نگران وزیر توانائی محمد علی نے مزید کہا تھا کہ کوشش کریں گے کہ ملک سے جس حد گیس نکل سکتی ہے وہ نکالی جائے، کسی اور ملک سے گیس کی پائپ لائن ملک میں لانے کی کوشش کریں گے، کام کر رہے ہیں کام کے مثبت نتائج آئیں گے، جو کام اور کوشش کر رہے ہیں اس سے مستقبل میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

گیس کی لوڈ شیڈنگ

4 اکتوبر 2023 کو نگران وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے بتایا تھا کہ گھروں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ہوگی، اس سال بھی آٹھ گھنٹے گیس مہیا کی جائے گی، ہم کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ ایل این جی منگوائی جائے گی، ملک میں گیس کی طلب زیادہ اور رسد کم ہے، ملک میں گیس کی طلب زیادہ اور رسد کم ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ بجلی کی چوہدری 579 ارب روپے ہے، ابھی شروعات ہے کچھ دنوں میں مزید بہتری آئے گی، بجلی کا کریک ڈاؤن جاری ہے، ابھی تک 16 ارب روپے ریکور کئے ہیں، ڈسکوز کے بورڈ آف ڈائریکٹر تبدیل کر ہے ہیں، ڈسکوز کو طویل المدتی کنسیشن پر نجی سیکٹر کے حوالے کریں گے، دسمبر تک ایل این جی کے دو کارگو ز فائنل کر دیئے ہیں، صنعت کے لئے گیس کی لوڈشیڈنگ کم ہوگی، چوری روکنے کے لئے ہمیں قانون سازی کی ضرورت پڑے گی، کچھ علاقوں میں ریکوری کرنا مشکل ہے۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں