سندھ اور پنجاب کے نگراں وزراء اعلیٰ نے مل کر ڈاکوؤں کے خلاف مشترکہ آپریشن شروع کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ جسٹس مقبول باقر سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے اپنے وزیر اطلاعات عامر میر، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور آئی جی پولیس عثمان انور کے ہمراہ ملاقات کی جس میں ڈاکوؤں کے خلاف آئندہ مشترکہ کلین اپ آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں وزرائے اعلیٰ نے اغوا برائے تاوان میں ملوث گروہوں،انکی مجموعی طاقت، پوزیشنز اور دریائے سندھ کے گھنے جنگلات میں خفیہ ٹھکانوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں دونوں وزرائےاعلیٰ نے اپنی اپنی ٹیموں کی مشاورت سے آلات، گیجٹس، موبائل جیمرز، کال انٹرسیپٹرز اور پولیس اور رینجرز کی تعیناتی کے پلان کی چیک لسٹ تیار کی تاکہ دونوں صوبوں سے بیک وقت آپریشن شروع کیا جا سکے اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ذریعے حملہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب نے ملاقات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی کچا علاقہ ضلع راجن پور کے علاقے میں آتا ہے تاہم گھوٹکی اور کشمور کے کچے کے علاقے (ماچکا اور کوٹ سبزل پولیس کے علاقے)رحیم یار خان سے ملحق ہیں، جنکی لمبائی 176کلومیٹر اور چوڑائی 25 کلومیٹر ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے زمینیں انتہائی زرخیز ہیں جہاں گنے کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔
وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ راجن پور میں سات جزائر ہیں جو رحیم یار خان کو بھی متاثر کرتے ہیں، ان میں کچہ کراچی، کچہ عمرانی، کچہ حیدرآباد، کچہ بنوں، کچہ مورو ،کچہ جمال، کچہ کوپڑا شامل ہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ گروہوں کے درمیان ایک علامتی تعلق ہے، راجن پور میں 5 اور کشمور اور گھوٹکی اضلاع میں 11 گینگز کی شناخت دونوں صوبوں کے درمیان قائم کردہ معلومات کے اشتراک کے ذریعے کی گئی۔
آئی جی سندھ پولیس رفعت مختار نے دونوں وزرائے اعلی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انکی پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف مسلسل چھاپے مارے ہیں، ہم نے کچے کے علاقے میں حفاظتی بند کے ساتھ 210پولیس چوکیاں قائم کی ہیں اور آپریشن شروع کرنے کیلئے ایک تفصیلی سامان کی فہرست وزیراعلی پنجاب کے ساتھ شیئر کی۔
اس موقع پر نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملاقات کا مقصد آپریشن کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کیلئے مل بیٹھنا تھا کیونکہ دونوں صوبوں کی پولیس مل کر ہی اس لعنت کا خاتمہ کرسکتی ہے، گھوٹکی کا کچہ رونتی اور کشمور کا کچہ گیھل پور رحیم یار خان کو متاثر کرتا ہے۔
نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکوئوں کے 11 گینگز میں بمشکل 600 گینگ ممبرز ہیں اور انہیں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس لیے مشترکہ آپریشن ناگزیر ہے۔پنجاب پولیس نے 9 پولیس کیمپ اور 53 پولیس چوکیاں قائم کی ہیں جو ڈاکوئوں پر حملے میں معاونت کریں گی۔
ملاقات میں نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ڈاکوئوں کے سہولت کاروں اور مخبروں کو پہلے ہی پکڑا جا چکا ہے تاکہ کسی بھی چیز کو لیک کیے بغیر آپریشن شروع کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ ٰسندھ جسٹس مقبول باقر نے مزید کہا کہ میں نے سکھر اور گھوٹکی کا دورے کے موقع پر وہاں دو دن قیام کیا تاکہ ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کو حتمی شکل دی جا سکے اور میں نے پولیس کو ضروری خریداری سمیت آپریشن شروع کرنے کیلئے پنجاب پولیس کے ساتھ باہمی روابط قائم کرنے کی مکمل منظوری دے دی ہے۔
ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ وزیر داخلہ سندھ بریگیڈیئر (رحارث نواز، چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم اور آئی جی پولیس رفعت مختار تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















