ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر قائد اعظم کے مؤقف پر قائم ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کا اتحادی نہیں ہے بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے جس کے بہت سے ممالک کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر قائد اعظم کے مؤقف پر قائم ہے، پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر بھی واضع مؤقف ہے جو 7 دہائیوں سے آزادی کی جدو جہد کرتے کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے تحت حق خود ارادیت فراہم کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر منوعاً عمل درآمد چاہتا ہے اور بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو کالعدم کرنے کے غیر قانونی اقدام کی سخت مذمت کرتا ہے، پاکستان نے ہمیشہ سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور او آئی سی جیسے پلیٹفارمز پر مسئلہ فلسطین کے لیے آواز بلند کی ہے، پاکستان مسئلہ فلسطین کے دیرپا حل اور خطے میں امن و امان کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، پاکستان نے غزہ کے اطراف اسرائیلی محاصرہ ختم کرنے اور ایمرجنسی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل کے لیے راہداری کھولنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد پر 1 نومبر کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی تاہم رجسٹرڈ مہاجرین اس کارروائی سے مستثنیٰ ہیں، پاکستان کو سب سے زیادہ تحفظات افغانستان میں موجود دہشتگردوں سے ہیں جو کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں، ان عناصر کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور ایسے عناصر کو آزادی سے گھومنے دینا پاکستان کو کسی صورت بھی قبول نہیں ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















