مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغان حکومت سے مذاکرات کئے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن پر جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین دو طرفہ مسئلہ ہے افغان حکومت سے مذاکرات کئے جائیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغان حکومت کو اعتماد میں لیکر ان کی واپسی کا طریقہ کار طے کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی رہنے والوں کی آڑ میں قانونی طور پر رہنے والے افغانوں کو بھی بلیک میل کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ اور با اثر لوگوں کی جانب سے قانونی طور پر رہنے والے افغانوں کو بلیک میل کیا جارہا ہے اور ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کیلئے ظالمانہ رویہ اپنایا جارہا ہے۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، دوطرفہ مذاکرات کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی
غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں، افغان شہریوں کی بڑی تعداد افغان سفارت خانے کے باہر موجود ہے جہاں نامکمل، ایگزٹ پاس اور پاسپورٹ کے رینیو کا عمل جاری ہے۔
افغان ایمبسی کی سست روی سے افغان شہری مشکل کا شکار ہیں جبکہ اب تک 104,481 افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان واحد ملک نہیں جس نے غیر قانونی افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ بہت سے ممالک جن میں بڑے ممالک بھی شامل ہیں انہوں نے بھی مفادات کے تحفظ اور ملکی ترقی کیلئے مختلف مواقعوں پر یہ فیصلے کئے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















