Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان کو تمام اہداف پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہے، آئی ایم ایف وفد

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے کہا ہے کہ پاکستان کو تمام اہداف پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن دو ہفتے کے دورے پر پاکستان پہنچا، تاہم پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان پہلا تعارفی سیشن بھی مکمل ہوگیا۔

ذرائع وزرات خزانہ نے بتایا کہ نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر سے آئی ایم ایف وفد کا تعارفی سیشن ہوا، ملاقات میں گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات میں آئی ایم ایف کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان نے تمام اہداف حاصل کرلیے ہیں، گیس کے ریٹ بڑھا کر اہم ترین ہدف حاصل کرلیا اور ڈیزل پر لیوی 55 سے بڑھا کر 60 روپے کر کے آخری ہدف بھی حاصل کرلیا۔

وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ پہلے جائزے کیلئے آئی ایم ایف کی تمام اہم شرائط پوری کرلی گئی ہیں، پاکستان کامیابی سے پہلے جائزے کی تکیمل کیلئے پر امید ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم ایف وفد نے پاکستان کی معاشی ٹیم کے اقدامات کو سراہا لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ پاکستان کو تمام اہداف پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہے۔

نگران وزیر خزانہ نے بتایا کہ قرض پروگرام کے تحت تمام اہداف پر عملدرآمد ہو رہا ہے، قرض پروگرام میں رہتے ہوئے تمام اہداف پر عملدرآمد کریں گے، اقتصادی جائزے تک آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کیلئے پہلی سہہ ماہی کارکردگی قابل قبول ہونا ضروری ہے، مالی سال کی پہلی سہ ماہی جائزے کیلئے تمام اہم اہداف حاصل کرچکے ہیں، جولائی تا ستمبر کیلئے آئی ایم ایف کی ٹیکس وصولی کی شرط پوری کی گئی اور  اسی عرصے میں ایف بی آر نے 1978ارب ہدف کے مقابلے 2041 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔

ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ جولائی تا ستمبر ایف بی آر نے کوئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری نہیں کی، ایف بی آر نے ماہ اکتوبر میں بھی ٹیکس ہدف سے زائد ٹیکس اکھٹا کیا اور ایف بی آر نے کوئی نئی ٹیکس کی چھوٹ بھی نہیں دی۔

ذرائع کے مطابق جولائی تا ستمبر لیوی کی مد میں 222 ارب روپے حاصل کیے جبکہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ تک اضافہ کیا جاچکا ہے اور یکم نومبر سے گیس ٹیرف میں تقریباً 200 فیصد تک اضافہ کیا۔

اس کے علاوہ مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں بجٹ خسارہ محدود رکھنے کی شرط پوری کی گئی، پاورسیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ بھی آئی ایم ایف کے ہدف سے کم ہوا، آئی ایم ایف نے جولائی تا ستمبر کیلئے سرکلر ڈیٹ میں 292ارب روپے تک اضافے کی اجازت دی اور اسی عرصے میں پاورسیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 227 ارب روپے بڑھ کر 2537ارب روپے ہوگیا۔

ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ ساورن گارنٹیز کی ری اسٹریکچرنگ سے متعلق آئی ایم ایف کا ہدف حاصل کیا گیا، مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں کوئی ضمنی گرانٹ جاری نہیں کی گئی، پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی فی لیٹر 60 روپے کی بالائی حد تک بڑھائی گئی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ صوبوں میں صحت، تعلیم پر 465 ارب روپے کے اخراجات کا ہدف بھی حاصل کیا گیا، تاہم  جائزے کی کامیابی پر پاکستان کو تقریباً 70 کروڑ ڈالرز کی قسط ملے گی۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ اور ماتحت اداروں کے حکام سے ملاقات کے بعد واپس روانہ ہوگیا، تاہم آئی ایم ایف سے مزید باضابطہ مذاکرات کل سے شروع ہونگے، کل پہلے مرحلے میں آئی ایم ایف کے ایف بی آر سے مذاکرات ہونگے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں