Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ؛ انتخابات کیس کا 10 صفحات پر حکم نامہ جاری

سپریم کورٹ نے انتخابات کیس کا 10 صفحات پر حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

تدصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انتخابات کیس کا 10 صفحات پر حکم نامہ تحریر کیا۔

جاری کردہ تحریری حکمنامے کے مطابق آگاہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کے خط کا کوئی جواب نہیں دیا، صدر کے خط اور الیکشن کمیشن کے مؤقف سے عدالت مشکل میں آگئی، آئین اور قانون میں عدالت کا الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار نہیں، صدر نے آرٹیکل 186 کے تحت عدالت سے رجوع نہیں کیا، صدر اور الیکشن کمیشن سمیت سب کو وہی کرنا چاہیے جو آئین کی منشا ہے، آئین پر عمل کرنا کوئی آپشن نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، کوئی ادارہ دوسرے کی آئینی حدود میں مداخلت کرے تو نتائج سنگین ہوں گے صدر اور الیکشن کمیشن کا تنازع غیر ضروری طور پر سپریم کورٹ لایا گیا۔

تحریری حکمنامے کے مطابق عدالت نے صدر اور الیکشن کمیشن کے امور میں مداخلت نہیں کی، پورا ملک انتخابات کی تاریخ کیلئے تشویش میں مبتلا تھا، کچھ لوگوں کو خدشہ تھا شاید انتخابات ہوں گے ہی نہیں، آئین کے تحت سپریم کورٹ ایسا اختیار استعمال نہیں کر سکتی جو اسے حاصل نہ ہو، عدالت صدر اور الیکشن کمیشن کو تاریخ کے تعین میں سہولت کاری کی، آئینی عہدہ جتنا بڑا ہوگا ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی، آئین پر عمل کرنا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے، صدر، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان آئین کے تحت کیے گئے حلف کے پابند ہیں۔

جاری کردہ تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ آئین پاکستان کو پچاس سال ہوچکے ہیں، کسی آئینی ادارے یا عہدیدار کے ہاس آئین سے آشنا نہ ہونے کا کوئی عذر نہیں، آج سے پندرہ سال پہلے تین نومبر کو آئین پر شب خون مارا گیا تھا، آئین پر شب خون مارنے کے ہمیشہ دوررس اثرات مرتب ہوئے ہیں، آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے، وقت آگیا ہے کہ عدالتیں غیر ضروری طور پر ایسے تنازعات کا حصہ نہ بنیں کہ ان پر وقت ضائع کریں۔

تحریری حکمنامے کے مطابق ماضی قریب میں انہی صدر مملکت نے اسمبلی اس وقت تحلیل کی جب وزیراعظم عدم اعتماد کا سامنا کر رہے تھے، آئین واضح ہے کہ عدم اعتماد کی صورت میں اسمبلی تحلیل نہیں ہوسکتی، اسمبلی تحلیل سے تنازع سپریم کورٹ آیا اور عدالت کو اس کا فیصلہ کرنا پڑا، جسٹس مظہر عالم نے قرار دیا کہ غیرآئینی اقدامات پر آٹیکل 6 بھی لگ سکتا ہے، جسٹس مظہر عالم نے آرٹیکل 6 کے اطلاق کا معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑا تھا، ہر آئینی ادارہ آئین پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے، وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔

جاری کردہ تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ عوام کا حق ہے کہ انتخابات ہوں اور عدالت کو الیکشن یقینی بنانے کا اعزاز حاصل ہوا، انتخابات کی مقررہ تاریخ 8 فروری پر تمام فریقین متفق ہیں، صدر سے اتفاق کے بعد انتخابات کی تاریخ کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا، نوٹیفکیشن کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 8 فروری کو ہوں گے، ایڈووکیٹ جنرلز کے مطابق کسی صوبائی حکومت کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں، وفاقی و صوبائی حکومتیں یقین بنائیں کہ انتخابات کا عمل 8 فروری کو بغیر کسی رکاوٹ مکمل ہو، عدالت نے 90 دن میں انتخابات کیلئے دائر درخواستیں نمٹا دی ہیں۔

تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ میڈیا کا بہت اہم کردار ہے، آئین پاکستان نے آرٹیکل 19 میں اظہار رائے کی آزادی دے رکھی ہے، اظہار رائے کی آئینی آزادی کو کچھ لوگ جھوٹا بیانیہ بنانے اور غلط معلومات پھیلانے کیلئے بطور لائسنس استعمال کرتے ہیں، اظہار رائے کی آئینی آزادی کے غلط استعمال کا مقصد جمہوریت کو نیچا دکھانا ہے، پیمرا آئینی خلاف ورزی پر پابندی عائد کرتا ہے، جمہوریت کی بہتری کیلئے فیئر کمنٹ ہونا چاہیے۔

جاری کردہ تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ میڈیا آرٹیکل 19 کے تحت میڈیا کے رول کا اعتراف کرتی ہے، بعض اس آزادی کو عوام کو غلط معلومات دینا اور جھوٹا بیانیہ بنانے کا لائسنس سمجھتے ہیں، غلط معلومات دینا جھوٹا بانیہ بنانا جمہوریت کو نیچا دکھانا ہے، پیمرا کا قانون ایسے مندرجات سے روکتا ہے جو لوگوں کا اکسائے اور حکومت کو آئین کے برخلاف ہٹایا جائے، پیمرا کا قانون جمہوریت کے فروغ کیلئے فئیر اظہار کی اجازت دیتا ہے، سپریم کورٹ میڈیا میں ان صحافیوں کو سراہتی ہے جو دیانتداری سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔

 تحریری حکمنامے کے مطابق جمہوریت پر اعتماد کی کمی سے عوام کی شمولیت کے ساتھ ساتھ ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوتا ہے، یورپین پارلیمنٹ کی ایک تحقیق کے مطابق غلط معلومات پھیلانے سے جمہوریت متاثر ہوتی ہے، یورپین پارلیمنٹ کی تحقیق کے مطابق غلط معلومات سے سوچنے کی آزادی، پرائیویسی کا حق کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، یورپین پارلیمنٹ کی تحقیق کے مطابق غلط معلومات سے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق خطرے میں پڑتے ہیں، یورپی پارلیمنٹ کی تحقیق کے مطابق غلط معلومات سے ناصرف جمہوری اداروں پر عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے بلکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات پر بھی حرف آتا ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں