اسلام آباد: شفاف انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کروا سکا۔
تفصیلات کے مطابق ملک میں شفاف انتخابات کیلئے افسران کے تبادلوں کیلئے الیکشن کمیشن کمزور پڑ گیا، تاہم آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی کو تاحال تبدیل نہ کیا جاسکا۔
آئی جی اسلام آباد ناصر اکبر خان اور ڈی سی عرفان نواز میمن کو فوری تبدیل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے دو خطوط لکھے تھے۔
جس کے بعد 24 اور 26 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو احکامات پر عمل درآمد کی واضع ہدایت دی تھی، تاہم دس روز گزرنے کے بعد بھی آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی کو تبدیل نہ کرایا جاسکا۔
آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی کی موجودگی میں شفاف انتخابات کیسے ممکن ہوں گے، اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں بے چینی بڑھنے لگی۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن اعلان کر چکا ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کرائے جائیں گے جبکہ سپریم کورٹ میں 11 فروری کی تاریخ سامنے آئی تاہم صدر سے مشاورت کے بعد 8 فروری کی تاریخ پر اتفاق ہوا۔
قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آٹھ فروری کو کرائے جائیں گے جس کا الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل الیکشن کمیشن باضابطہ طور پر یہ اعلان کرچکا تھا کہ جو حتمی حلقہ بندیاں ہیں وہ 30 نومبر تک مکمل ہو جائیں گے۔ اب الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات انہیں بہت زیادہ موصول ہوئے ہیں، تقریباً 13 سو سے زائد اعتراضات موصول ہوئے اور ان اعتراضات کو نمٹانے کے لئے انہیں مزید وقت درکار ہے جس کے لیے 30 نومبرکی تاریخ کو مذید بڑھایا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پہلے تیس نومبر تک حلقہ بندیاں مکمل کرنی تھی اب 8 سے نو دسمبر تک یہ عمل مکمل ہوگا جس کے بعد الیکشن کمیشن کو 54 دن انتخابات کی تیاریوں کے لیے چاہیے ہوں گے۔
بعدازاں الیکشن کمیشن کی جانب سے ابتک 600 سے زائد اعتراضات پر سماعتیں کر کے فیصلہ محفوظ کرچکا ہے، تاہم خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن میں اعتراضات کی درخواستوں پر درخواست گزار فیصلوں سے مطمئن نہ ہوئے تو ہائیکورٹ بھی جا سکتے ہیں۔



















