Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی ایم ایف کا ریٹیلرز، ایگریکلچر، رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے ریٹیلرز، ایگریکلچر، رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام کے آئی ایم ایف وفد کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جس میں ہر روز آئی ایم ایف کی جانب سے ایک نیا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔

ذرائع ایف بی آر کے مطابق ٹیکس کلیکشن میں شارٹ فال ہوا تو ریٹیلرز پر دسمبر کے بعد سے فکسڈ ٹیکس عائد کیا جا سکتا، ریٹیلرز پر ٹیکس عائد کرنے کیلئے اسکیم متعارف کرانے کے اختیارات ایف بی آر کے پاس ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایگریکلچر پر ٹیکس کیلئے صوبوں سے مشاورت اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس عائد کیلئے انفورسمنٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف مشن نے ٹیکس پالیسی میں ترامیم اور ٹیکس فلاز ختم کرنے کیلئے ایف بی آر کو تجاویز دی ہیں۔

آئی ایم ایف مشن نے تجویز دی ہے کہ جن سیکٹرز سے ٹیکس وصولی کم ہے وہاں ٹیکس پالیسی مؤثر بنا کر انفورسمنٹ کیا جائے۔

ایف بی آر نے رواں مالی سال کے اختتام تک ریونیو پروجیکشن رپورٹ آئی ایم ایف کو فراہم کر دی، تاہم آئی ایم ایف مشن پرسوں تک ریونیو پروجیکشن رپورٹ پر رسپانس دے گا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے قرض کے کوٹے سے متعلق اصلاحات تجویز کر دی ہیں، جس کی حتمی منظوری 15 دسمبر کو آئی ایم ایف کا بورڈ آف گورنرز دے گا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ کوٹے میں اضافے سے پاکستان کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے، قرض کیلئے کوٹہ بڑھ جانے سے پاکستان اگلے پروگرام میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہانا تھا کہ موجودہ قرض پروگرام ختم ہونے کے بعد اگلے قرض پروگرام میں کوٹہ بڑھ سکتا ہے، پاکستان کوٹہ بڑھنے سے چھ سے نو ارب ڈالر کا قرض لے سکتا ہے۔

اس سے قبل آئی ایم ایف کی جانب سے مذاکرات میں ٹیوب ویل صارفین کے لیے بجٹ سبسڈی ختم کرنے کا نیا مطالبہ کیا گیا تھا اور اور ٹیوب ویل کے لیے سولرائزیشن اسکیم کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچا، جن میں 8 افراد شامل تھے جو اقتصادی جائزہ کیلئے پاکستان پہنچے تھے، مذاکرات میں وزارت خزانہ میں قائم آئی ایم ایف آفس کے 2 لوگ شریک ہوں گے، مجموعی طور پر 10 افراد 15 تاریخ تک پاکستانی معاشی ٹیم سے مذاکرات کریں گے۔

آئی ایم ایف وفد سے اقتصادی جائزے پر مذاکرات کیلئے وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ مرتب کر لی، 11 وزارتوں اور اتھارٹیز کی طے شدہ اہداف پر مکمل عملدرآمد اور جزوی عملدرآمد رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت انرجی، وزارت پٹرولیم نے اہداف پر عملدرآمد کیا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزارت منصوبہ بندی، پیپرا نے بھی اہداف مکمل کیے، آئی ایم ایف کیساتھ کامیاب اقتصادی جائزہ مکمل ہونے پر 71 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی۔

بعدازاں نگران وفاقی وزیر شمشاد اختر نے میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام اداروں نے اہداف پر عملدرآمد کیا، کارکردگی اطمینان بخش ہے۔

انکا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی ٹیم مذاکرات میں مصروف عمل ہے، ہ دعا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اچھے انداز سے کامیاب ہو جائیں۔

نگران وزیر خزانہ نے مزید کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ میری اور معاشی ٹیم کی میٹنگز بہتر ہوئی ہیں، پالیسی سطح کے مذاکرات میں خود شرکت کروں گی۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں