سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے نوابزادہ میر حاجی لشکری رئیسانی کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے دی۔
تفصیلات کے مطابق نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی سے میاں شہباز شریف کی ملاقات ہوئی۔
شہباز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آج نواب اسلم رئیسانی اور حاجی لشکری رئیسانی سے ملنے آیا ہوں، سیاست اپنی جگہ ہمارا خاندانی تعلق ہے اس کا ہمیشہ ہم نے احترام کیا، 70 کی دہائی میں ان کے والد نواب غوث بخش ہمارے گھر میں ٹھہرتے تھے، بلوچ محترم پاکستانی ہیں، ہم نے ملکر اس صوبے کو خوشحال بنانا ہے، صدق دل سے سمجھتا ہوں نواز شریف آج ایک مدبر ہیں، نواز شریف تمام صوبوں سے محبت کرتے ہیں، بلوچستان کیلئے خدمات عیاں ہیں، نواز شریف کے دور میں یہاں سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پچھلی حکومت میں چار سال تباہی و بربادی ہوئی، حاجی لشکری رئیسانی کو مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کی دعوت دینے آیا ہوں، ان کی شمولیت سے (ن) لیگ کو تقویت ملے گی، حاجی لشکری رئیسانی قوم پرست سیاستدان ہیں کبھی پاکستان کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج نوابزادہ صاحب نے ہمارے ساتھ سیاسی عمل میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، صوبائی قیادت ان کے ساتھ ملکر باقی معاملات طے کریں گے، بلاول بھٹو میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں، پیپلزپارٹی سے اچھے تعلقات ہیں، ہمیں پختہ سیاست کی طرف بڑھنا چاہیے، مجھے امید ہے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی زعما ماضی سے سبق سیکھیں گے، ایک دوسرے پر الزام تراشی اور رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ مناسب یہ ہے کہ ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں، سیلاب آیا تو ہم حکومت میں آرام سے نہیں بیٹھے، سو ارب روپے دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے خرچ کیے، پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔
نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ میاں صاحب نے دعوت دی ہمارے لئے اعزاز ہے، صوبے کے مسائل سیاسی عمل سے ممکن ہیں، ہم نے اس سیاسی عمل کا حصہ ہیں، (ن) لیگ میں شمولیت سے متعلق بہت جلد اپنا فیصلہ کر کے اعلان کریں گے۔
دوسری جانب چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے مٹھی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کل مخصوص فیلڈ سجائی جارہی ہے، ن لیگ اپنے بل بوتے پر سیاست کرے، وفاق اور پنجاب حکومت ہو، اداروں کا ساتھ ہو اور ضمنی الیکشن ہار جائیں، بلدیاتی الیکشن سے ایسے بھاگے جیسے انہیں کوئی خوف ہو، شایدان کا خوف نکل چکا ہو یہ سمجھتے ہیں سرپرائز دیا جائے گا، ایسی سیاست کا نقصان ہوتا ہے فائدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں مشکلات کا شکار ن لیگ دوسرے صوبوں میں جارہی ہے، میری تجویز ہے میاں صاحب لاہور میں ہی فوکس کریں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں سیاسی پولورائزیشن ہے، اس حد تک آچکے کہ بات کرنے کوتیار نہیں، انتشار کی سیاست جاری رہی تو حالات نہیں بدلیں گے، پیپلز پارٹی کا کسی ادارے سے اس وقت کوئی جھگڑا نہیں، گالم گلوچ کی سیاست ہماری ٹریننگ نہیں رہی، لیول پلیئنگ فیلڈ پیپلز پارٹی کو کبھی نہیں ملی، پیپلز پارٹی عوام کی جانب دیکھ رہی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ الیکشن کی طرف جارہے ہیں، خواہش ہے پیپلز پارٹی کی حکومت ہی بنے، ہم عوام دوست حکومت چاہتے ہیں، پی ڈی ایم حکومت بنانا وقت کی ضرورت تھی، قومی مفاد سامنے رکھتے ہوئے پی ڈی ایم کا فیصلہ کیا تھا، سیاسی مفاد سامنے رکھتے تو فیصلے دوسرے ہوتے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہے، کوشش ہے ملک میں جمہوریت سے بہتری لائیں، اسلام آباد میں بیٹھنے والوں کو زمینی حقائق کا کم معلوم ہے، سب جانتے ہیں پیپلز پارٹی غریب کا احساس کرتی ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں آتی ہے تو انقلابی منصوبے لاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بےروزگاری ہے، کوئی امید نظر نہیں آئی کہ مشکلات کب ختم ہوں گی، معاشی حالات کی وجہ سے لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہر پیچ پر کھیلنے کو تیار ہے، اپنے 15 ماہ کے کردار پر الیکشن لڑنے کیلئے تیار ہوں، شہباز شریف، اسحاق ڈار، احسن اقبال و دیگر سے پوچھیں وہ تیار ہیں یا منہ چھپا رہے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















