غزہ کی جنگ کے دوران اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اندرون ملک اور بیرون ملک سے چند عناصر گھناؤنا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے جس میں پاکستان پر اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کا گھناؤنا الزام لگایا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر اس جھوٹی اور من گھڑت کہانی کو بھارتی میڈیا نے خبر بنا کر پیش کر دیا۔
سوشل میڈیا پر ایک جہاز کو اسلحہ پاکستان سے اسرائیل لے جانے کی جھوٹی اور من گھڑت کہانی بیان کی گئی، اصل میں حقیقت یہ ہے کہ بحرین سے راولپنڈی جانے والی پرواز افغان مہاجرین کے برطانوی انخلاء کا حصہ ہے نہ کہ اسلحے کی کھیپ کی اسرائیل منتقلی، پاکستان نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی ہر سطح پر پُر زور مذمت کے ساتھ ساتھ ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، اس سلسلے میں وزارت خارجہ بارہا دفعہ فلسطین پر اپنا واضح موقف دے چکی ہے جو کے بہت کلیئر، بولڈ اور غیر مبہم ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں مظلوم فلسطینیوں کی بھرپور اور کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی بھی انسان ہیں اور اُنکے ساتھ بھی انسانوں جیسا سلوک ہونا چاہیے۔
پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں اور غزہ میں شہری آبادی کے خلاف اسرائیلی حکام کی طرف سے طاقت کے “اندھا دھند اور غیر متناسب” استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ آرمی چیف بھی متعدد بار فلسطین کی حمایت اور سپورٹ میں کھل کر بھرپور طریقے سے آواز اٹھا چکے ہیں۔
24 اکتوبر 2023 کو فلسطینی سفیر سے خصوصی ملاقات میں آرمی چیف نے بھرپور طریقے سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں کشیدگی کی ساری ذمہ داری اسرائیل کے غاصبانہ قبضے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی وجہ سے ہوئی۔
اس کے علاؤہ 17 نومبر 2023 کو آرمی چیف کی علماء سے ملاقات میں بھی فورم نے غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالِم کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔
پاکستانی عوام کی فلسطینی عوام سے محبت اور حمایت میں کسی کو کوئی شک نہیں، پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے لئے امدادی سامان کی دو فلائٹس بھی بھجوا چکا ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔
پاکستان کے اس واضح موقف کے باوجود سوشل میڈیا پر یہود اور ہنود کی طرف سے گُمراہ کن پروپیگنڈا جاری اور ساری ہے، ایسے مذموم عناصر موقع ہاتھ لگتے ہی کوئی نا کوئی من گھڑت جھوٹ اور پروپیگنڈا کا پرچار سوشل میڈیا پر لے آتے ہیں، اِسی جھوٹ کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہُوئے یہی یہود اور ہنود اور انکے پیرو کار یہ جھوٹ بھی پھیلا رہے ہیں جو ایک انتہائی شرمناک اور گھٹیا جھوٹا پروپیگنڈا ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک دشمن عناصر ہر قیمت پر دشمن کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے لئے ہر سطح تک گر سکتے ہیں، ایسے شر پسند عناصر پاکستان کو یہود و ہنود کے کہنے پر ہر طرح سے نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے بچنے کیلئے ہمیں اس زہریلے پروپیگنڈے کو پہچاننا اور اسکی سرکوبی کرنا اہم ہے۔
در حقیقت پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، من گھڑت جھوٹے پروپیگنڈا کا مقصد اپنے مذموم سیاسی مقاصد کا حصول اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
واضح رہے کہ فلسطینی حکام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک 11,500 سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 7,800 سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں اور 29,200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,200 ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















