نگراں وزیر اعظم انوار الحق نےکہا ہے کہ میری وفاداری ریاست کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان ریاست سے متعلق میرے بیان کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا، افغان حکومت جانتی ہے ٹی ٹی پی کہاں موجود ہے
انہوں نے کہا کہ برداشت نہیں پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوں اور افغان طالبان تماشا دیکھتے رہیں، ٹی ٹی پی وسط ایشیائی ریاستوں میں نہیں افغان سرزمین پرموجود ہے۔
نگراں وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ میری وفاداری ریاست کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، کوئی ریاست سے سنجیدہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو پہلے ہتھیار پھینکے کیونکہ جو بندوق کے زور پر مذاکرات چاہتے ہیں وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بندوق کے زور پر ریاست کو مذاکرات پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اس لئے جب ہتھیار چھوڑے جائیں گے تب مذاکرات سے متعلق سوچا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان تارکین وطن کے ساتھ انتظامیہ نے بہترین سلوک کیا، قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو واپس نہیں بھیجا جارہا بلکہ حکومت صرف غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کو واپس بھیج رہی ہے جبکہ قانونی طور پر ملک میں آنے کے لیے کہا جارہا ہےتو کوئی برائی نہیں۔
انوار الحق نےکہا کہ اس میں کوئی شک نہیں غزہ کو جہنم بنا دیا گیا ہے، اسرائیلی حملوں میں سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہوئے، غزہ میں جنگ بندی کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔
نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ تمام جماعتیں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ہماری ترجیح ہے کہ جلد از جلد الیکشن ہوں، ہم چاہتے ہیں عوام اپنا مینڈیٹ استعمال کرکے لوگوں کو مینڈیٹ دیں۔



















