پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج بچوں کے عالمی دن کے موقع پر عالمی برادری کو خود سے کچھ مشکل سوالات کرنے چاہئیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شہباز شریف نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل انسانیت کے خلاف بدترین جرائم میں ملوث رہا ہے اور اس کے اقدامات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔
Israel continues to indulge in the worst crimes against humanity with absolutely no consequences for its actions. The principal proof of the Israeli war crimes is the killing of over 4000 Palestinian children in cold blood. This is the largest number of children killed in one…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) November 20, 2023
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کا سب سے بڑا ثبوت 4000 سے زائد فلسطینی بچوں کو سردی میں مارنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک سال کے دوران ہلاک ہونے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے جو کہ حالیہ تمام تنازعات میں اکٹھی ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ اسرائیل کے “اپنے دفاع کے حق” کی وکالت کرنے والوں کی خاموشی، جس طرح معصوم فلسطینی بچوں کا روزانہ کی بنیاد پر قتل عام کیا جا رہا ہے، دل دہلا دینے والی بات ہے۔
واضح رہے کہ حماس اور اسرائیلی جنگ 34 ویں روز میں داخل ہوگئی جس دوران اسرائیلی فورسز کی غزہ پر بمباری سے چار ہزار سے زائد بچوں سمیت 10500 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
غزہ میں بچوں کے ایک گروپ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے امن اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم جینا چاہتے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں، ہم خوراک، دوا اور تعلیم چاہتے ہیں، بم نہیں۔
اس سے قبل قبل اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے نیویارک میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ غزہ کا ڈراؤنا خواب ایک انسانی بحران سے بڑھ کر ہے، یہ انسانیت کا ایک بحران ہے، دن بدن شدت اختیار کرتا تنازعہ دنیا اور خطے کو ہلا رہا ہے۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سی معصوم جانیں تباہ ہو رہی ہیں، غزہ بچوں کا قبرستان بنتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روزانہ سینکڑوں بچے اور بچیاں ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہر 15 منٹ میں ایک بچہ شہید ہورہا ہے اور ہر ایک گھنٹے میں 420 بچے شہید یا زخمی ہورہے ہیں۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















