اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نجکاری پلان پر اتفاق ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نجکاری پلان کے تحت نقصان زدہ سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی تاہم نجکاری کے ذریعے ہی حکومتی ملکیتی اداروں کے نقصانات کم کیے جاسکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے نقصانات کا تخمینہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ لگائے گا، آئی ایم ایف کو سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ ارسال کی جائے گی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم کرنے کیلئے نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی ۔
اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات آئی ایم ایف کا سب سے بڑا مطالبہ ہے، توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ جی ڈی پی کے 4 فیصد تک پہنچ گیا، توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو کم کرنے کا ہدف حاصل نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ہدف حاصل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا مطالبہ آئی ایم ایف کی جانب سے کیا گیا ہے، تاہم گیس اور بجلی کے نرخوں میں بروقت اضافہ نہ کرنے سے عوام پر دوگنا بوجھ پڑتا ہے، بجلی اور گیس کے نرخوں کی بروقت ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر توانائی کے شعبے میں سبسڈی کو محدود کیا جائے گا۔
دوسری جانب انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کے ایجنڈے میں پاکستان کا کیس شامل ہونے کا امکان ہے۔
بعدازاں آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے قبل فنانسنگ کی ضروریات لازمی قرار دیا گیا ہے، پاکستان کو ایگزیکٹو بورڈ منظوری کے بعد 70 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملے گی۔
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 25 ارب ڈالر فنانسنگ کی ضرورت ہے، خلیجی دوست ملک سے 1 ارب ڈالر، ایگزم بینک سے 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے جبکہ چین نے 2 سال کیلئے مزید قرض رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ڈیجیٹل مارکیٹس، پراپرٹی اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔
گردشی قرضے میں اضافہ روکنے کیلئے آئندہ بھی بجلی اور گیس ٹیرف بڑھانا ہوگا، عام انتخابات سے قبل نگران حکومت فروری میں نئے قرض پروگرام پر بات کر سکتی ہے، نگران حکومت آنے والی حکومت کیلئے معاشی حکمت عملی پر مبنی بلیوپرنٹ تیار کرے گی۔
یاد رہے کہ رواں مالی سال مزید 10 لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، مہنگائی میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کو سخت مانیٹری پالیسی کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ آئی ایم ایف کو مارکیٹ کے مطابق ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















