اسلام آباد: ٹیکس ریونیو اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا تکنیکی وفد آئندہ ہفتے پاکستان پہنچے گا۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد ایف بی آر کے ساتھ تقریباً ایک ہفتہ ٹیکس پالیسی پر مذاکرات کرے گا۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اور آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد ٹیکس پالیسی میں ترامیم کیلئے اقدامات کریں گے، تاہم ٹیکس پالیسی میں ترامیم کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور زیادہ ریونیو اکٹھا کرنا ہو گا۔
ذرائع نے بتایا کہ ریٹیلرز کیلئے اسکیم متعارف کرانے کا بنیادی ڈھانچہ بھی تکنیکی وفد کے ساتھ مل کر تیار کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ٹیکس پالیسی کے ذریعے مزید 10 لاکھ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر ٹیکس دہندگان کی تعداد 60 لاکھ تک پہنچائی جائے گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ تکنیکی وفد کے ساتھ مل کر ٹیکس پالیسی میں جو ترامیم کی جائیں گی وہ آئندہ بجٹ میں نافذالعمل ہوں گی جبکہ ٹیکس پالیسی اور انفورسمنٹ میں بہتری کیلئے تکنیکی وفد سے ایک ہفتے تک مذاکرات جاری رہیں گے۔
گزشتہ روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کے بارے میں ابھی کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی، آئی ایم ایف پاکستان کے لئے ٹیکس، نجکاری اور انرجی کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی حد مقرر نہیں کررہا، پاکستان کو نجکاری کے عمل میں کسی اثاثے کی فروخت یا اس کے بند کرنے پر کوئی مشورہ نہیں دیا جارہا، یہ کام حکومت کا اپنا ہے۔
آئی ایم ایف کے ذرائع نے بتایا تھا کہ گیس اور بجلی کی قیمتوں کو خساروں کے پیش نظر تبدیل کیا جائے گا، قیمت بڑھانے پر کوئی حد مقرر نہیں، ٹیکس میں اضافہ کرنے کیلئے جی ڈی پی کے 0 اعشاریہ 4 فیصد ٹاسک دیا، ایف بی آر نے گزشتہ مالی سہ ماہی میں ٹیکس محصولات میں بہتری دکھائی، ٹیکس کی بہتری کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان کے لئے پیکج پر کام جاری ہے، آئندہ پیکج کے لئے درکار اقدامات کی فہرست تیار کی جارہی ہے، اس موضوع پر جلد حقائق سامنے آئیں گے، پاکستان کے نئے پیکج کے لئے استعداد کے بارے میں موصول شدہ ڈیٹا پراسس کیا جارہا ہے، کچھ اقدامات پیکج پر کام شروع ہوتے ہی لینا لازمی ہوگا۔
بعدازاں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نجکاری پلان پر اتفاق ہوگیا ہے، نجکاری پلان کے تحت نقصان زدہ سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی تاہم نجکاری کے ذریعے ہی حکومتی ملکیتی اداروں کے نقصانات کم کیے جاسکتے ہیں۔
دوسری جانب انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کے ایجنڈے میں پاکستان کا کیس شامل ہونے کا بھی امکان ہے۔
آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے قبل فنانسنگ کی ضروریات لازمی قرار دیا گیا ہے، پاکستان کو ایگزیکٹو بورڈ منظوری کے بعد 70 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملے گی۔
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 25 ارب ڈالر فنانسنگ کی ضرورت ہے، خلیجی دوست ملک سے 1 ارب ڈالر، ایگزم بینک سے 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے جبکہ چین نے 2 سال کیلئے مزید قرض رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ڈیجیٹل مارکیٹس، پراپرٹی اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔
گردشی قرضے میں اضافہ روکنے کیلئے آئندہ بھی بجلی اور گیس ٹیرف بڑھانا ہوگا، عام انتخابات سے قبل نگران حکومت فروری میں نئے قرض پروگرام پر بات کر سکتی ہے، نگران حکومت آنے والی حکومت کیلئے معاشی حکمت عملی پر مبنی بلیوپرنٹ تیار کرے گی۔
یاد رہے کہ رواں مالی سال مزید 10 لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، مہنگائی میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کو سخت مانیٹری پالیسی کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ آئی ایم ایف کو مارکیٹ کے مطابق ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















