سابق صدرآصف زرداری نےکہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی ملکی معیشت کے دشمن تھے۔
تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ فلسطین پراسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتاہوں، فلسطین کے بغیر مسلم دُنیا نا مکمل ہے، جس طرح کشمیر شہ رگ ہے اسی طرح فلسطین بھی شہ رگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگیں اور قبضے کبھی بھی خطے میں امن نہیں لاسکتے، فلسطینی لوگ کبھی بھی اس سب کو تسلیم نہیں کریں گے اور جو اسرائیل اس سب کے بعد معاشی استحکام چاہتا ہے وہ ایسے کبھی بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔
آصف علی نے یہ بھی کہا کہ میرے پر ہونے والے کیسز ابھی ختم نہیں ہوئے جو کیسز ختم ہوئے وہ میرے 14 سال پرانے کیس تھے، بانی پی ٹی آئی کی مہربانی والے کیس ختم نہیں ہوئے جبکہ مجھ پر نئے کیس نواز شریف نے نہیں چیئرمین پی ٹی آئی نے بنائے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد درست فیصلہ تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہوگیا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی ملکی معیشت کے دشمن تھے، ہم پی ٹی آئی کے خلاف نہیں صرف ایک شخص کے خلاف ہیں
آصف علی زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوانوں کو دھرتی سے پیار ہے مگر یہاں روزگار میں مسائل ہیں، ہم کاروبار کے مواقع بڑھانے کی کوشش کریں گے جبکہ اقتدار ملا تو وزیر خزانہ پارٹی کے اندر سے آئے گا
انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی انتقامی سیاست نہیں کی، میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔پیپلز پارٹی اس الیکشن میں اچھا خاصہ سر پرائز دے گی، میرے ورکرز مجھ پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔
سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ آصفہ بھٹو جہاں سے الیکشن لڑنا چاہے لڑے، وہ بہت مضبوط اُمیدوار ہے، آصفہ اپنی ماں کی طرح غصے میں تیز ہے، اُن کے غصے سے ڈر نہیں لگتا پیار آتا ہے۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہم اپنی پارٹی کے الیکشن پر بات کر سکتے ہیں، دوسری پارٹی کے الیکشن پر نہیں، آئندہ الیکشن کے نتیجے میں مخلوط حکومت بنے گی، مجھے یقین ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہماری انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے، ضروری نہیں کہ ن لیگ لیڈ کرے، ن ہمارے ساتھ اور ہم ن کے ساتھ چل نہ سکیں یہ بات قبل از وقت ہے، ن لیگ اور مولانا پی پی اکثریت نہیں لے سکتی جبکہ کوئی پارٹی بھی 172 کی اکثریت نہیں لے سکتی ،آئندہ الیکشن کے بعد مخلوط حکومت بنے گی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















