Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جنرل سید عاصم منیر کا بطور آرمی چیف ایک سال مکمل

جنرل سید عاصم منیر کا بطور آرمی چیف ایک سال مکمل ہوگیا، گزشتہ سال 29 نومبر کو جنرل عاصم منیر نے جب پاک فوج کی بطور آرمی چیف کمان سنبھالی تو پاکستان کو سیکیورٹی مسائل سمیت، معیشت، سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی مخددوش صورتحال کا سامنا تھا۔

گزشتہ حکومت کی پالیسیز اور سیاسی ترجیحات کے باعث ایک طرف ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھا تو دوسری طرف دہشت گردی میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا تھا۔

 آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دانشمندی، فہم و فراست اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محظ ایک سال کے قلیل عرصے میں حکومت کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کیخلاف کاروائیاں تیز کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کہیں بھی پاؤں جمانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

آرمی چیف نے اپنے ادارے میں بھی احتساب کے عمل کو مثال بنایا۔ چینی،کھاد اور سیمنٹ مافیاز اور بین الاقوامی سرحد پر اسمگلنک کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی لانے میں مدد ملی۔

غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلاء کو یقینی بنانا یقینا پاک فوج کی قیادت کا ایسا اقدام تھا جس کا محض چند ماہ پہلے تک تصور بھی نہیں رہا۔

ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھنے والے زرعی شعبے کے لئے لمز اور گرین پاکستان انیشیٹو جیسے اقدامات سے زراعت میں جدت لانا بھی آرمی چیف کا ہی کارنامہ ہے۔

ایک سال سے بھی کم عرصے میں زرعی شعبے پر توجہ دینے سے کپاس کی پیداوار میں 126 فیصد کا ریکارڈ اضافہ بھی سامنے آیا۔

ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لئےبیرون ممالک سے سرمایہ کاری کو فروغ اور تحفظ دینے کے لیے SIFC کو قائم کیا۔

ایس آئی ایف سی کی ایک تازہ مثال کل ہی دیکھنے کو ملی جب آرمی چیف کی موجودگی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے۔

 سعودی عرب، چین دوست ممالک سے سفارتی تعلقات کو آرمی چیف نے ایک سالہ دور میں بہتر کیا جبکہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ فلسطین کے معاملے پر بھی جنرل سید عاصم منیر نے دوٹوک مؤقف اپنایا اور نہ صرف پاکستان بلکہ امت مسلمہ کی ترجمانی کی۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور  حکومت کے مشترکہ اقدامات ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ ڈالر کا ریٹ 308 سے 286 پر پہنچ گیا ہے۔

آج  پاکستان ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس نے 60 ہزار پوائنٹس کی تاریخ سطح کو بھی چھوا اور اس کے ساتھ چینی کی قیمت میں 230 روپے کلو سے 140 روپے فی کلو تک آ گئی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ یک مشت 30 روپے کی کمی دیکھنے کو ملی اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود ایک سال میں پاکستان نے ترقی کے وہ اہداف عبور کیے جس کا پاکستانی تصور بھی نہیں کرتے تھے بلکہ یہ سب انہیں صرف سیاسی جلسوں اور نعروں ہی میں سننے کو ملتا تھا۔

جنرل عاصم منیر نے ثابت کیا کہ نیت صاف اور عزم بلند ہو تو ایک سال کے قلیل عرصہ میں بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں