جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں نوجوانوں اور قوم کو گمراہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان لاڑکانہ میں طوفان اقصیٰ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی اسی میدان میں اسی عنوان سے اجتماع سے خطاب کیا ہے ہر اجتماع سے توقع کی ہے کہ یہ صرف سندھ نہیں پاکستان کی سیاست میں تبدیلی لائے گا 75 سال تک اس ملک میں غلط قیادت کو منتخب کیا گیا اب مستقبل سنوارنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آج کے اجتماع میں صرف شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو خراج عقیدت پیش نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کی سرزمین سے غزہ کے مجاہدوں کو بھی پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ انکے ساتھ ہے، اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے ساتھ ہیں، فلسطین کی تائید میں مطالبے کیے جاتے ہیں کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو ہم نے 15 سال سے کیا ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عرب دنیا سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہوں آج وہاں کے یتیم بچوں اور ماؤں بہنوں نہتے نوجوانوں کا خون تمہیں بلا رہا ہے، غزہ کے یتیم پکار رہے ہیں کہ عرب دنیا کیسے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر سکتی ہے، ہمارے اجتماعات میں عوامی سیلاب عوام کی رائے کو قائم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے یہاں اسلام کے علاوہ کوئی تہذیب نہیں چلے گی، تم نے پاکستان کو سیکیولر شناخت دینے کی کوشش کی یہ ملک کلمہ کے نام پر بنا ہے اور یہی شناخت رہے گی، یہ ہمارا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ بارہواں کھلاڑی ہے، اب کون ہے بارواں کھلاڑی؟ اب ہاتھ میں بلا نہیں بلی ہے، جو بہک گئے ہیں انہیں راستے پر لانا ہے، وہ ملک میں تبدیلی نہیں لایا تمہیں تبدیل کردیا، تمہارے اندر نہ کوئی اسلام اور نہ کوئی پاکستان کی علامت نظر آ رہی ہے اپنے اندر جھانکو ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا معقف پیش کرتے ہیں ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ2018 میں سب سے پہلے الیکشن دوبارہ الیکشن کروانے کا مطالبہ ہم نے کیا تھا لیکن الیکشن کا ماحول بھی تو ہو کہ ایک امیدوار آزادی سے انتخابی مہم چلا سکے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور الیکشن کمیشن کو سوچنا پڑے گا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے والے بتائیں کیا ہم نے دہشتگردی پر کنٹرول حاصل کر لیا ،ہمیں الیکشن چاہیئں لیکن الیکشن کے لیے پر امن ماحول بھی چاہیے، پاکستان کو اگر ایک پر امن ریاست نہیں بنایا جاتا تو خوشحالی نہیں آئے گی، سندھ کی سیاست اور ملک کی سیاست کو آپنے بدلنا ہے یہی پیغام ہے۔



















