Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کرپٹ حکمرانوں کا خاتمہ دنیا دیکھے گی، خالد مقبول صدیقی

کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کرپٹ حکمرانوں کا خاتمہ دنیا دیکھے گی اور ہم بھی دیکھیں گے۔  

 تفصیلات کے مطابق کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی گلشن اقبال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایک بڑے خواب کو دیکھنے کا ہے، ہم نے پاکستان کی حکومت کے لیے خواب دیکھا ہے، ہم بڑے خوش قسمت تھے ہمیں آزادی ملی بڑے بد قسمت ہیں اس کی قدر نہیں کی، کراچی کے وارث واپس آگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری رگوں میں وہ خون دوڑ رہا ہے جب ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا، پاکستان کے قابضین کو عوام کی آزادی کی خاطر 3 نکات پیش کیے ہیں، 3 نکات مان لو ورنہ کہیں 6 نکات نہ آ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کے لیے جدوجہد کا پہلا مرحلہ شروع کر رہے ہیں، اس شہر پر جابروں،ظالموں اور غاصبوں کا قبضہ ہے، کراچی پورا پاکستان آپ کی طرف دیکھ رہا ہے۔

کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال 22 ہزار ارب کی بات کر رہے تھے یہ تو وہ رقم ہے جو ٹیکس دیتے ہیں، یہ انتخابات اور لوگوں کے ضمیر پیسے سے خریدنا چاہتے ہیں، ان کرپٹ حکمرانوں کا خاتمہ دنیا بھی دیکھے گی ہم بھی دیکھیں گے۔

2024 کا الیکشن خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، فاروق ستار

سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی گلشن اقبال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلشن میں بہار آگئی ہے، گلشن اقبال کے لوگ اپنی مرضی سے آئے ہیں، ہم آج دل کی بات کرنے آئے ہیں، یہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے ری برانڈڈ اور نئی ایم کیو ایم وجود میں آئی ہے، اس کا نظریہ روز اول سے دوسری پارٹیوں سے آلگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا کوئی نظریاتی سیاسی عمل ہے جو پاکستان کے سیاسی جموعت کے کو توڑنے کا حوصلہ ہے، اللہ نے ہمیں جیسے پہلے عروج دیا تھا ہم ویسے ہی متحدہ ہوجائیں، سندھ کے شہروں میں ہر زبان بولنے والی عوام ایم کیو ایم کے بینر تلے کھڑے ہو جائیں،

 ان کا کہنا تھا کہ جو ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں ہم اس بات کا کھل کر اطراف کریں کے غلطیاں کس کی تھی، آخری پانی کراچی میں میری میئر شب میں آیا اور دوسری بار مصطفیٰ بھائی کی میئر شب میں آیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سارے ادارے اپنے انڈر لے لیے گئے لیکن پھر بھی کراچی کے مسائل حل نہیں ہوئے، گھروں میں ہماری ماؤں بہنوں کی زندگی عذاب کیے ہوئے ہیں، کراچی کے تاجر 4 ہزار ارب کا ٹیکس دیتی ہے اور بدلے میں 40 کروڑ ملتے ہیں، ان دیرینہ امراض کے علاج کا اب وقت ہے، ہم اپنے نوجوان کو در در کی ٹھوکریں کھاتے کب تک دیکھیں، ہمیں جاب سیکر نہیں جاب پروائڈر دینے ہیں، ہمیں ہر شعبہ میں نوجوانوں کو آگے لانا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ کہاں ہے احتساب 2024 کا الیکشن خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، لگتا ہے الیکشن کمیشن میں ایک دو میمبر ایسے ہیں جنہوں نے سندھ کے وڈیروں اور جاگیرداروں کو ترجیح دی، یہ کراچی کی زمینوں کا پیسہ الیکشن میں لگنے والا ہے، ہمارا مقابلہ بڑی عمارتوں والوں سے ہے۔

سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی کا مطلب پاکستان ہے ہم پاکستانی نہیں تو کوئی پاکستانی نہیں، یہ ارطغرل کا پہلا سیزن ہے، گلشن میں بہار آگئی ہے گلشن کا کاروبار چل پڑا ہے، عام انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کریں گے، کراچی کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کریں گے۔

ایم کیو ایم نے آنے والی نسلوں کیلئے آب حیات پیش کر دیا ہے، مصطفیٰ کمال

 ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے آنے والی نسلوں کیلئے آب حیات پیش کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کراچی گلشن اقبال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے کے لحاظ سے 29 ٹاؤن ہیں، یہ صرف اور صرف ایک ٹاؤن کا جلسہ ہے، یہ جلسہ صرف اور صرف گلشن اقبال ٹاؤن کا ہے، اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش اور خواب دیکھا جا رہا ہے، یہ شہر نہ پہلے کسی کے قبضے میں گیا ہے نہ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 10 سالوں تک ریاستی آپریشن رہا شہدا قبرستان آباد ہوئے کراچی والوں سے کراچی کوئی نہیں چھین سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لگ رہے ہیں، ہم لوگوں کو گلیوں میں حق حکمرانی لانا چاہتے ہیں، وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اختیارات نکال کر گلیوں میں لانا چاہتے ہیں، ایم کیو ایم نے تین آئینی ترمیم کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے مردم شماری میں 73 لاکھ لوگوں کو بازیاب کروایا، ایم کیو ایم نے آنے والی نسلوں کے لیے آب حیات پیش کر دیا ہے، آج کی ایم کیو ایم وزارت ،صدارت ،عہدے نہیں اختیارات مانگ رہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اختیارات اور وسائل ملنے کے بعد کسی ایم این اے یا وزیر اعلیٰ کے پیچھے نہیں بھاگنا پڑے گا، سندھ کا وزیر اعلیٰ 22 ہزار ارب خرچ کر کے بیٹھا تھا، کراچی میرے زمانے میں دنیا کے 12 ترقی کرنے والے شہر میں شمار ہوتا تھا، دنیا چاند پر جا رہی ہے کراچی کے بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کنوینر خالد مقبول صدیقی آئینی ترامیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو پیش کریں گے، ہمیں آج جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام سے اختیارات چھیننے کی ضرورت پیش آئی ہے، ہمیں اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے حکمرانوں کو بتانا ہوگا، ہم سڑکوں پر آنے سے بھی گریز نہیں کریں گے، 3 کروڑ آبادی کا یہ شہر ہے 2 کروڑ لوگ نکل گئے روڈ پر میں دیکھتا ہوں پاکستان کیسے چلتا ہے۔

 ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہمیں مضبوط صوبے نہیں مضبوط ضلع چاہیے، جب تک پاکستانی خوشحال نہیں ہوگا تو صوبہ ٹھیک چلے گا نہ ملک، ایم کیو ایم بڑی تعداد میں اس شہر میں جیتے گی 2013 کا مینڈیٹ واپس لیں گے، آئینی ترمیم منظور نہیں کی گئی تو اس شہر کی سڑکیں ہوں گی اور ہم ہوں گے۔

 

 

متعلقہ خبریں