Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

موسمیاتی چیلنج سے نمٹنےکیلئےترقی پذیرممالک کو 100 ارب ڈالر درکار ہیں،وزیراعظم

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ موسمیاتی چیلنج سے نمٹنےکیلئےترقی پذیرممالک کو 100 ارب ڈالر درکار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے دبئی میں کوپ 28 کانفرنس کے دوران قومی بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاونت ڈویلپمنٹ فنانس اور پہلے سے قرضوں کے بوجھ تلے رہنے والے ترقی پذیرممالک کے قرضوں میں مزید اضافہ کی قیمت پرنہیں ہونا چاہئیے۔

  نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے 100 ارب ڈالر کے معاونت کے وعدوں پرفوری عمل درآمدکی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیرممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات پرعمل درآمد کیلئے اس معاونت کی ضرورت ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی کیلئے ترقی یافتہ ممالک کو اپنی اقتصادی حیثیت اورتاریخی ذمہ داری سے ہم آہنگ قائدانہ کرداراداکرتے ہوئے اسی طرح کے اقدامات کیلئے ترقی پذیرممالک کی مدد کرنی چاہئیے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے عالمگیراستقامت کے حصول کیلئے موسمیاتی موافقت کے واضح عالمی اہداف واشاریوں بشمول باقاعدہ نگرانی وپیش رفت پرمبنی ایک فریم ورک کی صورت میں نتیجہ کے حصول کی ضرورت ہے۔

  نگراں وزیراعظم نے کہا کہ کوپ 28 کانفرنس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہے جوحقیقت پسندانہ ہے اورہمیں امید ہے کہ اس سے عملی اقدامات کی راہ ہموارہوگی۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں اورمسائل پر قابو پانے اوراس ضمن میں اقدامات پر عمل درآمد کیلئے ترقی پذیرممالک کیلئے موسمیاتی مالیاتی معاونت، استعدادکارمیں بہتری اورٹیکنالوجی کی فراہمی پرزوردیا۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان بدترین سیلاب سے متاثرہوا جبکہ جاری سال ریکارڈ شدہ تاریخ میں سب سے گرم ترین سال ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ گلاسکو میں کوپ 26 کے موقع پرپاکستان نے 2030 تک ماحول کونقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں مجموعی طورپر60 فیصد کمی کے پرجوش ہدف پرمبنی نظرثانی شدہ نیشنلی ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) پیش کیاتھا، اس سال پاکستان نے ایک جامع قومی موافقت پلان پیش کیاہے جبکہ اختراقی لیونگ انڈس انیشئٹو کا آغاز بھی کردیاگیا ہے جس سے موسمیاتی تبدیلیوں اورفطرت کیلئے ہماری توجہ اورعزم کی عکاسی ہورہی ہے، موجودہ اجلاس میں پاکستان اپنی پہلی اپ ڈیٹ رپورٹ بھی پیش کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان نے گلوبل لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کی کوشش میں قائدانہ کرداراداکیاتھا جبکہ اس سال ہم نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ اورفنڈنگ کیلئے مناسب انتظامات کو فعال بنانے کیلئے کام کیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اقوام متحدہ کے پائیدارترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے۔

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے ضمن میں ترقی پذیرممالک کیلئے اضافی مالیاتی گرانٹس ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں