پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں کچھ ہوا نہیں بلکہ ہمارے شروع کئے ہوئے منصوبے بھی رُک گئے۔
تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی بورڈ کا چوتھا اجلاس ہوا جس میں صوبہ بلوچستان میں پارٹی کے لئے موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔
اجلاس میں بلوچستان کے 87 امیدواروں کے انٹرویو کیے گئے، امیدواروں کے حتمی ناموں کا اعلان پارٹی قیادت کی طرف سے کچھ روز بعد کیا جائے گا۔
نواز شریف نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کے لئے تیاری مکمل ہے، ہم اقتدار میں آکر غریبوں کا سہارا بنین گے، ہمارے دور میں ہمیشہ ملک و قوم نے ترقی کی ہے، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے حقائق ہیں۔ نوازشریف۔
نواز شریف نے کہا کہ آج ہم نے تمام امیدواروں کی پروفائل اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر امیدواروں کو ٹکٹ دئیے جائیں گے، نیک نیتی سے صرف ملک و قوم کی خدمت کریں گے، جن کو ٹکٹ نہ ملی ان کو اقتدار میں آکر اہم ذمہ داریاں سونپیں گے، جب بھی ن لیگ کی حکومت آئی ہم نے بلوچستان میں بہت کام کئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چار سو چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے تاکہ عوام کو پانی ملے، شہباز شریف کے بنائے دانش سکولوں میں بچوں کو داخلہ دیا، بلوچستان کے بچوں کو تعلیم کی بہترین سہولیات دینا چاہتے ہیں، سوا لاکھ ایکڑ سیراب کرنے والی کچھی کنال 50 ارب میں ہم نے بنائی، باتیں کرنے والے بہت آئے، عملی طور پر کچھ نہیں کیا، صرف مسلم لیگ (ن) نے کوئٹہ گوادر ژوب اور لورالائی کے بارے میں سوچا۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کو سندھ کے ساتھ ملایا کوسٹل ہائی وے بنائی، کوئٹہ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ذریعے اسلام آباد سے ملا رہے ہیں، 2018 میں منصوبہ مکمل ہونا تھا، یہ منصوبہ کیوں مکمل نہ ہوا، یہ نقصان عوام کا ہوا، ڈیڑھ دن میں گوادر سے کوئٹہ لوگ پہنچتے تھے، ہم نے اُن کی یہ تکلیف ختم کی۔
نواز شریف نے کہا کہ گوادر کوئٹہ شاہراہ کی تعمیر سے اب آپ ناشتہ گوادر اور دوپہر کا کھانا کوئٹہ میں کھا سکتے ہیں، کچھ فرق تو ہے باتیں کرنے اور عمل کرنے والوں میں، کہاں گئی وہ تبدیلی؟ عوام کو پوچھنا چاہیے، کون کس نے کیا کیا؟ بچوں کو بتانا چاہیے، ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں تعلیم صحت تک محدود نہیں ہو گا، پاکستان کا سب سے بہترین ہوائی اڈہ گوادر میں مکمل ہونے والا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گوادر کا نام اُس وقت لیا جب 1990 میں میں وزیراعظم بنا تھا، عوام کو بجلی کے مہنگے بلوں سے آزاد کرنا چاہتے ہیں، سولر پینلز کی سکیم لائیں گے، گھریلو کمرشل اور زرعی صارفین کو سولر پینلز سے مہنگی بجلی سے نجات دلائیں گے، بغض اور حسد گندی زبان اور نفرت نے معاشرے کو گندا کیا۔
انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں کیا نیا ہوا؟ ہمارے شروع کئے منصوبے بھی رُکے رہے، اپنے معاشرے میں تہذیب شرافت اور شائستگی واحترام واپس لائیں گے، ہم نے لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ختم کی، بیس بیس سال منصوبے مکمل نہیں ہوتے تھے، ہم نے مہینوں میں منصوبے مکمل کئے، ہماری حکومت ختم نہ ہوتی تو غربت پسماندگی معاشی بدحالی ختم ہو چکی ہوتی۔
نواز شریف نے کہا کہ ہم تو ایسا پاکستان بنا رہے تھے جہاں مہنگائی نہ ہو عوام کی زندگی مشکل نہ ہو، 2017 میں عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلا دی تھی، کراچی بلوچستان خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک سے دہشت گردی ختم کر دی، آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ کون کیا کر کے گیا ہے۔
پارلیمانی بورڈ میں سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف، الیکشن سیل کے سربراہ سینیٹر اسحاق ڈار، سیکریٹری جنرل احسن اقبال، بلوچستان کے صدر جعفر خان مندو خیل اور پارٹی کے مرکزی و صوبائی عہدیدار شامل شریک ہوئے۔



















