اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے علاقائی امن کو درپیش چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے متحرک انداز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
صدر پاکستان عارف علوی نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام اسلام آباد کانکلیو 2023 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس وقت محبت، ہمدردی اور معافی کے نقطہ نظر کی اشد ضرورت ہے۔
اس موقع پر عارف علوی نے ریاستی اداروں کے درمیان موثر گفت و شنید اور پالیسی سازی کے لیے ہم آہنگی پر بھی زور دیا اور پاکستان کی جغرافیائی سیاست سے جیو اکنامک کی طرف اسٹریٹجک تبدیلی کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بھارت کی جارحیت کے تناظر میں علاقائی صورتحال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور نظامی پیش رفت کے مطابق پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ یہ صورتحال دنیا کی بے حسی کی تشویشناک علامت ہے جو خواتین اور بچوں سمیت معصوم لوگوں کے قتل عام کو نہیں روک سکی۔
صدر مملکت نے کہا کہ جنگ کسی بھی تنازعے کو حل کرنے کا حل نہیں ہے اور ہمیشہ تشدد کا نہ ختم ہونے والا شیطانی چکر نکلتا ہے۔
انہوں نے جنگوں کی حمایت کرنے والے جمہوری ممالک کے نقطہ نظر پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ اخلاقیات کو انسانی سوچ کا محور ہونا چاہیے۔



















