قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب ہونا چاہیے، ہم صرف حکومتیں لینے نہیں آئے۔
تفصیلات کے مطابق نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، ہم نے خود مشکلات پیدا کیں، محب وطن لوگوں کو جیلوں میں ڈالا، ایسے لوگوں کو لائے جنہوں نے ملک میں دراڑیں ڈالیں، ہم دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی چاہتے ہیں، قوم کو پتا ہونا چاہیے کہ کون چور ہے، آج بھی میں مقدمے بھگت رہا ہوں، جھوٹے مقدمات بنانے والوں سے کوئی پوچھے گا کہ انہوں نے یہ کیوں بنائے؟
نواز شریف نے کہا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر ہمیں سزائیں دلواتے ہو، آج مجھے 7 سال کے بعد انصاف مل رہا ہے، قوم کا 60 ارب کھا جائیں گے تو بجلی کی قیمت نہیں بڑھے گی تو کیا ہو گا، 190 ملین پاؤنڈ سب سے بڑا سیکنڈل تھا، بند لفافہ لہرا کر اس پر دستخظ کر رہے تھے، ریاست مدینہ میں کیا ہوتا تھا اس کی خبر نہیں ہوتی تھی، اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے ریاست مدینہ کا نام لیا جاتا تھا، ریاست مدینہ کا نام لینے والے کے قصے کہانیاں سب سن رہے ہیں، کچھ تکلیفوں کا زندگی میں ازالہ ہو جاتا ہے جبکہ کچھ زخم زندگی بھر نہیں بھرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صبر کا دامن کبھی نہیں چھوڑا، خواہش ہے پاکستان کو مصیبتوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر لایا جائے، اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہے، اس سے گزرنا پڑتا ہے، سیاست کے میدان میں آنا ہے تو پورا پروگرام لیکر آنا ہے، حلقے کے عوام کی تقدیر بدلنے کیلئے سیاست میں آنا ہے، بدقسمتی ہے کہ ملک میں پچھلے 75 سال سے کھیل کھیلے جاتے رہے، ماضی میں ایسا شخص لایا گیا جس کو معیشت کا کچھ نہیں پتا، احتساب ہونا چاہیے، ہم صرف حکومتیں لینے نہیں آئے۔
خیال رہے کہ آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا پانچواں اجلاس ہوا جس کی صدارت قائد محمد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف نے کی۔
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ نے آج بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف ارگنائزر مریم نواز شریف، الیکشن سیل کے سربراہ اسحاق ڈار، سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ خان، پارٹی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے علاوہ ڈویژنل کوآرڈینیٹرز نے اجلاس میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ پارلیمانی بورڈ 2 دسمبر سے اب تک سرگودھا ڈویژن، ڈسٹرکٹ راولپنڈی، ہزارہ، مالاکنڈ ڈویژن اور صوبہ بلوچستان میں پارٹی امیدواروں کے ناموں پر غور کر چکا ہے۔



















