وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے کہا ہے کہ ہم فلسطین کے لوگوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو بورڈ کا فلسطینی علاقے میں صحت کی صورتحال خصوصی اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ پاکستان ای ایم آر او اور او آئی سی کی جانب سے دیئے گئے بیانات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرتا ہے، مشکل حالات میں غزہ میں متاثرہ لوگوں کو صحت کی خدمات فراہم کرنے پر ڈی جی ڈبلیو ایچ او ایگزیکٹو بورڈ، ممبران ممالک دیگر سٹیک ہولڈرز کے مشکور ہیں۔
ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ، ہم نظرثانی شدہ مسودہ قرارداد کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تشدد کی موجودہ لہر شروع ہونے کے بعد سے پاکستان فلسطین میں اپنی بہنوں اور بھائیوں کے لیے انسانی امداد بھیجنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا، ہم شہری انفراسٹرکچر پر ٹارگٹ حملوں کی مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں 17000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 7000 سے زیادہ معصوم بچے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ظلم و بربریت کے اس پیمانے نے فلسطینی عوام کی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے ، اس صورتحال کے سب سے زیادہ پریشان کن پہلوؤں میں سے ایک صحت کی سہولیات، ہیلتھ ورکرز اور ایمبولینسوں پر مسلسل حملے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انسانی امداد کے مستقل اور قابل اعتماد محفوظ راستے بشمول طبی سامان اور متاثرہ لوگوں تک ان کی ترسیل کی حمایت کرتے ہیں ، آپ ہمیشہ پاکستان کو انسانی امداد میں سب سے آگے پائیں گے، ہم تجویز کرتے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او آئندہ ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس میں اس آفت کے پیمانے پر ایک جامع رپورٹ فراہم کرے۔
وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان کا مزید کہنا تھا کہ آخر میں ہم فلسطین کے لوگوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں،1967 سے پہلے کی سرحدوں کے بین الاقوامی سطح پر متفقہ پیرامیٹرز کی بنیاد پر ایک قابل عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔



















