سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ نے آئینی و فوجداری معاملات کے ماہرین کو معاون مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔
ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کی گئی۔
اٹارنی جنرل نے سماعت کے دوران کہا کہ یہ کیس آخری بار 2012 میں سنا گیا، مجھے کوئی ہدایات نہیں ملیں کہ یہ ریفرنس نہ سنا جائے۔
چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے، براہ راست کارروائی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، صدارتی ریفرنس ابھی بھی برقرار ہے یہ واپس نہیں لیا گیا، ایک سینئر ممبر بنچ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔
بلاول بھٹو نے فریق بننے کی درخواست دے دی جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کی نمائندگی کرونگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے، ہم آپ کو ورثاء کے طور پر بھی سن سکتے ہیں اور بحیثیت سیاسی جماعت کے طور پر بھی، عدالت نے ریفرنس میں پیش ہونے والے وکلا کے نام لکھ لیے ہیں، سپریم کورٹ کی کارروائی پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرتے تھے، اب ہماری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کارروائی لائیو ہو گی، دو اور ججز نے ذاتی وجوہات پر معذرت کی جس کے بعد نو رکنی بنچ تشکیل دیا گیا۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کونسے صدر نے یہ ریفرنس فائل کیا ہے؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری نے یہ وفاقی حکومت پر ریفرنس فائل کیا تھا۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آصف زرداری کے بعد کتنے صدر آئے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آصف زرداری کے بعد 2 صدر آئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم صدارتی ریفرنس شروع کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب آپ آغاز کریں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس 15 صفحات پر مشتمل ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے کارروائی براہ راست نشر کرنے پر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شکریہ کی بات نہیں یہ اہم سماعت ہے۔
جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، اتنے لمبے عرصے تک کیس دوبارہ فکس نہ ہونے پر بطور چیف جسٹس پاکستان معذرت چاہتا ہوں۔
جسٹس منصور شاہ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ ریفرنس کا ٹائٹل پڑھیں۔
اٹارنی جنرل نے ریفرنس میں اُٹھائے گئے سوالات عدالت کے سامنے رکھ دیے
جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل کے دوران بنچ پر اعتراض کی کوئی درخواست دی گئی؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ریکارڈ کے مطابق کئی درخواستیں دی گئی تھیں۔
اٹارنی جنرل نے دوران سماعت جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرويو کا حوالہ بھی دیا۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ انٹرویو کس کو دیا گیا تھا؟
فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ یہ انٹرویو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں دیا گیا تھا، دو انٹرویوز کا ذکر کیا گیا ہے دوسرا انٹرویو کسی انجان شخص کو دیا گیا۔
احمد رضا قصوری نے نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دے دیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آپ جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو پر انحصار کریں گے؟
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی تو اٹارنی جنرل نے ریفرنس پر اُٹھائے گئے قانونی نکات بھی پڑھ دیے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ صدر پاکستان کے ریفرنس میں اس وقت نمائندگی کس نے کی تھی؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس وقت بابر اعوان نے صدر مملکت کی نمائندگی کی تھی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا بابر اعوان کمرہ عدالت میں موجود ہیں؟
فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ بابر اعوان کا لائسنس اس وقت معطل ہو گیا تھا، بابر اعوان اس وقت کی حکومت کی سپریم کورٹ میں نمائندگی کر رہے تھے۔
احمد رضا قصوری نے کہا کہ ریفرنس میں کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا تھا، بابر اعوان اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے۔
جسٹس میاں محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ کیا اس میں ضمنی ریفرنس بھی آیا تھا؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ متفرق درخواست کے ساتھ اور بھی چیزیں ائی تھیں۔
چیف جسٹس نے فاروق نائیک اور احمد رضا قصوری سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ آرڈر میں تو اسکا ذکر کیوں تھا؟
احمد رضا قصوری نے جواب دیا کہ تو یہ چیزیں میں نے دینی تھی نا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایس ایم ظفر اور مختلف وکلا استعمال کر چکے ہیں، علی احمد کرد صاحب کیا اپ معاونت کریں گے؟
احمد علی کرد نے جواب دیا کہ جی میں معاونت کرونگا۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ عدالتی حکم میں توبہ کا تذکرہ کیا گیا کیا کوئی بتائے گا کیوں؟ کیا وکیل فاروق نائیک اور احمد رضا قصوری بتا سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے علی احمد کرد، طارق محمود، خالد انور اور مخدوم علی خان کو معاون مقرر کیا تھا۔ ہم دیکھیں گے جو عدالتی معاون دستیاب نہیں ان کے متبادل کون ہوں گے، عدالت کی معاونت کیلئے مشاورت کے بعد مزید نام دیں گے۔
احمد رضا قصوری نے جواب دیا کہ عدالت کسی عالم کو بلائے۔
وکیل مخدوم علی خان اور علی احمد کرد نے عدالتی معاونت کی حامی بھر لی۔
بیرسٹر اعتراز احسن نے کیس میں عدالتی معاونت سے معذرت کر لی۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں کئی وکلا وفات پا چکے۔
وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ میں انٹرویوز کا ٹرانسکریٹ اور ویڈیوز بھی عدالت میں پیش کروں گا۔
مخدوم علی خان اور اعتزاز احسن کے معاونین وکلاء نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ مخدوم علی خان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ اس کیس میں ہیں یا نہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ عدالتی معاون تھے ہم کسی کو مجبور نہیں کر سکتے، کیا اعتزاز احسن اس کیس میں بطور عدالتی معاون آئیں گے؟
معاون وکیل اعتزاز احسن نے جواب دیا کہ اعتزاز احسن وکیل بھی ہیں تو بطور معاون نہیں آئیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ تقریر نہ کریں ہاں یا نہ میں جواب دیں، قاضی اشرف بھی اس کیس میں معاون تھے۔
فاروق نائیک نے جواب دیا کہ قاضی اشرف تندرست ہیں اور پریکٹس کر رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کمرہ عدالت میں گزشتہ سماعتوں کے حکمنامے پڑھ کر سنائے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پولیس سے کیس کا اصل ریکارڈ ملا تھا؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ریکارڈ اصل نہیں ملا، ریکارڈ میں تین بنڈل آئے تھے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا جب یہ سارا کیس چلا مُلک میں آئین موجود تھا؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اُس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، کیس میں جو شکایات دائر ہوئی تھیں اس کا ریکارڈ موصول نہیں ہوا تھا، عدالت نے حکم نامے میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو سارا ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا تھا۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جو ٹریبونل بنایا تھا اس کا کیا نام تھا؟
فاروق نائیک نے جواب دیا کہ ٹریبونل نے دیکھنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمات درست تھے یا نہیں، ٹریبونل نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تمام مقدمات کو جعلی قرار دیا تھا، اب اس ٹریبونل کا ریکارڈ کہاں ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ ریفرنس کبھی نہ سنا جائے تو اعتراض اٹھاتے رہیں، ہمارے سامنے وہ بات کریں جو سامنے موجود ہے، ایسا کرنا ہے تو ایک درخواست دے دیں کہ کس کس کو احکامات دیے جائیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ شفیع الرحمان ٹریبونل رپورٹ کو پبلک کیا گیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے برقرار رہا اور نظرثانی کی اپیل بھی مسترد ہوئی، آپ ہمیں اب اس ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر مطمئن کریں، آپ ہمیں بتائیں آرٹیکل 186 کے تحت قانونی سوال کیا ہے؟ جو فیصلہ حتمی ہو چکا ہے اس کو ٹچ نہیں کر سکتے، دوسری نظر ثانی کی سپریم کورٹ پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کل کوئی فریق آکر پرانا مقدمہ نکلوا سکتا ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے، کیا ہم آرٹیکل 186 کے تحت کسی عدالتی فیصلے کو دیکھ سکتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اس ریفرنس میں قانونی سوال کیا ہے کیا کل صدر مملکت یہ ریفرنس بھیج سکتے ہیں کہ تمام پرانے فیصلوں کو دوبارہ دیکھا جائے؟ پورا صدارتی ریفرنس تو ٹی وی انٹرویوز کے گرد گھومتا ہے۔
سماعت جنوری تک ملتوی کر دی گئی، عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کر کے جواب لیا جائے گا، سپریم کورٹ نے ذولفقار بھٹو صدارتی ریفرنس میں 9 عدالتی معاون مقرر کر دئیے۔
چیف جسٹس نے آج کی سماعت کے حکمنامے میں لکھوایا کہ عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کر کے جواب لیا جائے گا، آرٹیکل 186 کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کر دکیا گیا، آخری بار صدارتی ریفرنس 2012 میں سنا گیا، بدقسمتی سے یہ ریفرنس اس کے بعد سنا نہیں گیا اور زیر التوا رہا، جسٹس ر منظور ملک عدالتی معاون مقرر کٸے جاتے ہیں، صدارتی ریفرنس کی کاروواٸی لاٸیو اسٹرٸمنگ کے ذریعے دکھاٸی گٸی، ریفرنس براہ راست دکھانے پر بلاول بھٹو کی درخواست غیر موثر ہو گٸی ہے، سپریم کورٹ بلاول بھٹو کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹاتی ہے۔
حکمنامے میں لکھوایا گیا کہ فاروق اییچ نائیک نے بلاول بھٹو کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دی، فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ذوالفقار بھٹو کی صرف ایک بیٹی زندہ ہیں، عدالت کو بتایا گیا کہ ذولفقار بھٹو کے 8 پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں ہیں، ورثا کی جانب سے جو بھی وکیل کرنا چاہے کر سکتا ہے، بھٹو ریفرنس کو حکومت نے واپس نہیں لیا اور نہ ہی صدارتی ریفرنس کو واپس لینا چاہتی ہے، صدارتی ریفرنس پر 21 اپریل 2011 کو سوالات فراہم کیے گئے، عدالتی کارروائی کے دوران کئی عدالتی معاون مقرر ہوئے ان میں سے کچھ معاونین دنیا میں نہیں رہے۔
حکمنامے میں لکھوایا گیا کہ بھٹو ریفرنس بڑا اہم ہے مخدوم علی خان علی احمد کرد معاونت کیلئے تیار ہے، مناسب ہو گا مزید عدالتی معاونین کا تقرر کیا جائے، اس معاملے میں صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت کیساتھ کئی آئینی سوالات ہیں، عدالت کو قانونی ماہرین کی ماہرانہ رائے کی معاونت درکار ہو گی، اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کیا صدارتی ریفرنس کبھی واپس لیا گیا ، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ریفرنس نہ پہلے واپس لیا گیا نہ موجودہ نے واپس لیا، عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے ریفرنس پڑھ کر سنایا۔
حکمنامے کے مطابق ریفرنس میں مقرر کیے گئے معاونین کا انتقال ہو چکا ہے، ایک معاون علی احمد کرد عدالت موجود ہے، معاونت پر بھی رضا مندی لی، مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے بتایا ہے کہ وہ معاونت کے لیے تیار ہے، آرٹیکل 186 کے سکوپ کا معاملہ توجہ طلب ہے، کس نوعیت کی رائے دی جا سکتی ہے یہ بھی اہم معاملہ ہے، معاملے کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی ماہرین کی رائے کیا ہو گی؟ جسٹس (ر) منظور ملک کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، عدالتی معاون تحریری یا زبانی طور پر معاونت کر سکتے ہیں، خواجہ حارث بطور ایڈوکیٹ جنرل پنچاب اس کیس کا حصہ رہ چکے ہیں، خواجہ حارث، سلمان صفدر ، رضا ربانی ، خالد جاوید ، ذاہد ابراہیم اور یاسر قریشی کو معاون مقرر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کیس میں صدارتی ریفرنس پر گیارہ سال بعد آج سماعت ہو گی۔
رجسٹرار سپریم کورٹ نے کیس کے فریقین کو نوٹس جاری کر رکھا ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے سال 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔
ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہو چکی ہیں۔
صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو ہوئی تھی۔
ذوالفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی۔



















