Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جسٹس اعجاز الحسن کو جوابی خط

چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز الاحسن کے 17 نومبر کے خط کا جواب سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اعجاز الاحسن کے خط کا جواب دے دیا جبکہ چیف جسٹس کا جوابی خط سپریم کورٹ ویب سائٹ پر شیئر  بھی کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوابی خط میں لکھا کہ مجھے جسٹس اعجاز الاحسن کے خط پر مایوسی ہوئی، میرے دروازے اپنے تمام ساتھیوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، میں انٹر کام اور فون پر بھی ہمیشہ دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنے تحفظات کیلئے نہ تو مجھ سے انٹر کام کے ذریعے بات کی نہ مجھ سے رابطہ کیا جبکہ میں نے آپ کا خط ملنے پر فوری آپ کے انٹر کام پر رابطے کی کوشش کی لیکن جواب نہ ملا۔

قاضی فائز عیسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میری ہدایت پر اسٹاف نے آپ کے آفس سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ آپ جمعہ کے روز لاہور کیلئے نکل چکے ہیں ، ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج کی پہلی ذمہ داری عدالتی فرایض کی انجام دہی ہے، آپ کی درخواست پر کمیٹی اجلاس جمعرات کو رکھے گئے، جمعرات کو اجلاس رکھنا شاید غلطی تھی، ججز کمیٹی کے 3 اجلاس آپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملتوی ہوئے۔

قاضی فائز عیسیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشاورت کے حوالے سے میں اپکو اپنا بطور چیف جسٹس سب سے پہلا دستخط کرنے والا آرڈر یاد دلاتا ہوں، بینچز کی تشکیل ظاہر کرتی ہے کہ ہر جج کو ایک جیسا احترام دیا جاتا ہے، خصوصی بینچز کسی جج کو نکالنے یا ڈالنے کیلئے تشکیل نہیں دئیے جا رہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  کا اپنے خط میں مزید کہنا تھا کہ آپ کے اعتراضات حقائق اور ریکارڈ کے بر خلاف ہیں ، بینچز کی تشکیل کے حوالے سے کوئی تجویز ہے تو بتائیے اس حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا۔

 واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

متعلقہ خبریں