صدر مملکت نے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لئے زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ کے مؤثر نفاذ اور آگاہی کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی جس میں ضلعی اور کمیونٹی کی سطح پر پولیس افسران کے لئے تربیتی پروگرام وضع کرنے پر اتفاق ہوا۔
اجلاس میں سیکرٹری انسانی حقوق نے الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جبکہ سیکرٹری نے اجلاس کو زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ 2020 سے اب تک 2246 بچوں کے لاپتہ ہونے کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، پی ایم پورٹل پر ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور ZARRA اینڈرائڈ ایپ لانچ کرنے کے علاوہ پولیس کے ساتھ کوآرڈینیشن میکنزم بھی قائم کیا گیا ہے ۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لئے زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ کے موثر نفاذ اور آگاہی کی ضرورت ہے، تمام صوبوں کی پولیس اور زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی سمیت مختلف سٹیک ہولڈرز کے درمیان موثر رابطہ کاری اور معلومات کا فوری اشتراک لاپتہ اور مغوی بچوں کی بروقت بازیابی میں مدد کر سکتا ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری وزارت انسانی حقوق اللہ ڈینو خواجہ، آئی جی اسلام آباد، ایڈیشنل آئی جیز سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب پولیس، این جی اوز کے نمائندوں اور حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



















