بشریٰ بی بی آڈیو لیکس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام آپریٹرز کو نوٹس جاری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق بشریٰ بی بی آڈیو لیکس کیس کی سماعت سماعت جسٹس بابر ستار کر رہے ہیں۔
بشری بی بی کی جانب سے وکیل سردار لطیف کھوسہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
سماعت شروع ہوتے ہی اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے رولز پڑھ کر سنائے۔
ڈائیریکٹر جنرل پی ٹی اے عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق کوئی کال انٹرسیپٹ نہیں کی گئی، پی ٹی اے اس کیس میں صاف جھوٹ بول رہی ہے، کیا فیڈریشن ایک جھوٹی رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟ کس کے پاس کیپیسٹی ہے کال انٹرسیپٹ کرنے کی؟ پی ٹی اے کی پرویژن کے مطابق کال انٹرسیپٹ کی جاتی ہیں، جو بھی آتا ہے کہتا ہے کہ کسی کے پاس کال انٹرسیپٹ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جو بھی ہوا اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کسی کی پرائویسی متاثر ہوئی ہے، انٹرسیپٹ کس نے کی اور کیا یہ کسی حکومتی ایجنسی نے کی؟ اس پوائنٹ کی تحقیقات کر رہے ہیں، اگر کسی ایجسنی نے یہ ریکارڈ کی ہے تو یہ غیر قانونی ہے۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے بھی پیش ہوئے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے ذریعے جواب جمع کروایا ہے۔
اٹارنی جنرل نے فوری آئی ایس آئی کی رپورٹ عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائی۔
جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے ذریعے رپورٹ کیوں جمع کروائی؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایف آئی اے نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے آئی پی ایڈریس کا پتا لگانے کے لیے لکھا ہے، ایف آئی اے کی رپورٹ کا انتظار ہے، آئی ایس آئی کے مطابق کوئی ایسا میکانزم نہیں جس سے پتا لگ سکے کہ اڈیو کیا آئی پی سے پہلے لیک ہوئی؟
جسٹس بابر ستار نے سماعت کا آڈر لکھواتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، پی ٹی اے تمام سیل فون آپریٹرز کا ڈیٹا فراہم کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام آپریٹرز کو نوٹس جاری کر دیا ہے، اگلی سماعت پر انٹرسیپٹ کرنے سے متعلق رپورٹ جمع کروائیں، کس ڈیٹا اور وائس کال حکومتی اداروں کو دی جاتی ہیں، ٹیلی کام آپریٹرز رپورٹ میں بتائیں۔
جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ اس تمام صورتحال میں پیمرا کیا کر رہا تھاَ؟
پیمرا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم سی او سی کی رکمینڈیشن پر انحصار کرتے ہیں، ہم سی او سی کی ہدایات کے بغیر کوئی ایکشن نہیں لے سکتے، ہم نے تمام لائیسنس یافتہ چینلز کو 18 دسمبر کو لکھا کہ اس آڈیو کو ایئر نہ کیا جائے، ہم نے یہ معاملہ سی او سی کو بھجوا دیا ہے۔
جسٹس بابر ستار نے پیمرا سے استفسار کیا کہ کیا آپ الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کر رہے ہیں کہ نہیں؟ کیا کسی اور کیس میں پیمرا نے الیکٹرانک میڈیا کو کنٹینٹ آن ایئر نہ کرنے سے روکا ہے؟ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی چیز ابھی الیکٹرانک میڈیا پر چل جاتی ہے تو پیمرا کچھ نہیں کر سکتا کیوں کہ اس وقت سی او سی موجود نہیں ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، تمام آپریٹرز نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔
پیمرا نے جواب دیا کہ سی او سی نے یہ متعین کرنا ہے کہ کیا چیز غلط آن ایئر ہوئی۔
اٹارنی جنرل نے سماعت کے دوران وزیر اعظم آفس کی رپورٹ بھی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آڈیو ٹیپ کی کسی ایجنسی کو اجازت نہیں، وزیراعظم آفس کی پوزیشن ہے کہ آئی ایس آئی ایف آئی اے آئی بی کسی کو آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں، ایف آئی اے کو پہلے دیکھنا ہے کہ کس نے کال ریکارڈ کی، عدالتی احکامات کے بعد ایف آئی اے ٹیلی کام کمپنیوں کو لکھ رہا ہے، ایف آئی اے کو کن آئی پی ایڈریسز تک رسائی چاہیے ہو گی۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اعتزاز احسن صاحب نے ریاست ہو گی ماں کی جیسی نظم لکھی ہے، کھوسہ صاحب وہ پڑھیں شاید آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے، امید کرتے ہیں ایف آئی اے بہتر رپورٹ جمع کروائے گا، اعتزاز صاحب آپ بتائیں ہم کیسے آگے بڑھیں؟ میں خود کشمکش کا شکار ہوں، ایک جانب میڈیا کہتا ہے رائٹ ٹو انفارمیشن سب کو ہے، دوسری جانب سے پرائویسی متاثر ہونے کی بھی بات ہے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جنرلز جیسے اداروں میں ایک اخلاقی ڈیسک موجود ہوتا ہے، چیز پبلک میں جانے سے پہلے اخلاقی ڈیسک اس مواد کا جائزہ لیتا ہے، سیلف ریگولیشن کی چینلز کو بہت ضروری ہے، ڈیویلپ ممالک میں اخلاقیات کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، میڈیا کی زمہ داری تھی کہ اس معاملے کی حساسیت کو جانتی۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر میں سینئر صحافیوں سے بھی معاونت لوں گا، رپورٹس پہلے آجائیں، یہ معاملہ انتہائی حساس ہے، ان کو ضرور حل کریں گے۔



















