تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے خلاف سازش کے تابوت میں کیل ٹھونک دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے،عدالت نے کہا ہے کہ بلے کا الیکشن واپس کیا جائے۔
بیرسٹر علی ظفر نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن نے مخالف کے طور پر فیصلہ کیا انہیں آزاد ہونا چاہیے جبکہ الیکشن کمیشن نے ہمارا کیس جس طرح دیکھا اس طرح کسی کا نہیں دیکھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل بیرسٹر علی ظفرنے مزید کہا کہ انتخابی نشان سیاسی جماعت کی جان ہوتی ہے اور انتخابی نشان پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے،یقین ہے عدالتیں انصاف کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل، تحریکِ انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم
پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
پشاورہائی کورٹ میں جسٹس کامران حیات میاں خیل نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی جبکہ گوہرعلی خان، بیرسٹرعلی ظفر، بابراعوان اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے.
عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا آرڈرمعطل کیا جاتا ہے۔ الیکشن 8 فروری کو اورنشانات13 جنوری کو ہونے جا رہے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا جارہا ہے۔
پشاورہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔



















