Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، شہباز شریف

سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف سیستان میں انٹیلی بیسڈ کامیاب مشترکہ کارروائی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے والی ٹیم کو سلام پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی عمل داری سے محروم علاقے میں کارروائی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اہم ہے، دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں، علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے مشترکہ نظام کو ری ایکٹیویٹ کیا جائے، ہم آہنگی بہتر بنانے اور بات چیت سے آگے بڑھنے کے عمل کو مزید موثر بنانا ہوگا، کشیدگی میں کمی لانا ہو گی۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ مسلح افواج نے آپریشن کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ قابلیت، مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا، آپریشن کی قیادت اور اس میں حصہ لینے والے تمام افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

پس منظر

ایران کی جانب سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کی حقیقت سامنے آگئی،ایران کی طرف سے  16 جنوری کو تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی بِلا اشتعال فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت ہے جس کو چھپانے کے لئے جیش العدل کی فیک اور جھوٹی اسٹیٹمنٹس کا سہارا لیا گیا۔

حملے کے فوری بعد آئی آر جی سی نے اِس حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئے جیش العدل سے منسوب ایک وٹس ایپ بیان  ایشو کیا تاکہ یہ بیانیہ بنایا جا سکے کہ یہ حملہ واقع جیش العدل کے کیمپ پر ہوا ہے، لیکن پاکستان کا ری ایکشن دیکھ کر ایران کو اپنے اِس غلط اور بے تکی حرکت کا اندازہ ہو گیا۔

جیش العدل جسے آئی آر جی سی خود چلا رہی ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اِس مسئلے سے جان چھڑائی جائے اسی لئے جیش العدل سے دوبارہ جھوٹا بیان دلوایا گیا کہ یہ راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کر پاکستان چلے گئے جبکہ اصل میں نشانہ سستان، ایران کے اندر ہی واقع جیش العدل کے اپنے کیمپ تھے۔

یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم خُود آئی آر جی سی کی طرف سے فائر کیے جانے والے راکٹس  غلطی سے بارڈر کراس کرنے کی وضاحتیں دے رہی ہے، اِس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ جیش العدل سے منسوب اکاؤنٹس آئی آر جی سی اور ایرانی انٹیلیجنس خود چلا رہی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کیمپس ایران میں موجود ہیں، کلبوشن یادیو بھی ایران سے آپریٹ کرتا رہا ہے، ایران کا یہ خیال ہے کہ پاکستان اس واقع کو کسی بھی صورت نظر انداز کرے گا اُس کی بہت بڑی بھول ہے۔

متعلقہ خبریں