انتخابات سے قبل پاکستان استحکام پارٹی کے رہنما علیم خان نے پی ٹی آئی کو ایک اور بڑا سرپرائز دے دیا ہے۔
پاکستان استحکام پارٹی کے رہنما علیم خان نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ شاید نشان نہ ہونے کی وجہ سے بڑی جماعت کے امیدوار متحرک نہیں اور بہت سے امیدوار پہلی بار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹرگوہر کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا، بیرسٹر گوہر ایک سال پہلے پیپلز پارٹی کے فعال ممبر تھے، پی ٹی آئی میں کوئی فعال ممبر نہیں تھا کہ وہ چیئرمین بن سکے، وکیل کو ہی چیئرمین بنانا تھا تو حامد خان بھی تھے۔
آئی پی پی رہنما نے کہا کہ پارٹی سے وفادار رہنے والوں کو عہدے، ٹکٹس دینے چاہیے تھے، چیئرمین ایسے شخص کو بنایا گیا جس کا پی ٹی آئی سے کوئی لینا دینا نہیں، وسیم اکرم پلس کے چکر میں چیئرمین بنایا گیا تو پھر یہ فارمولا صحیح تھا۔
علیم خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بہت سے آزاد امیدوار جیت کر استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بن جائیں گے، بہت سے آزاد امیدوار ہیں جن کے ساتھ ہم نے کام کیا ہے، وہ رابطے میں بھی ہیں، کئی امیدواروں نے جیت کر آئی پی پی میں شامل ہونے کا یقین دلایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں سقم تھے، کوئی سیاسی جماعت پنجاب آتی ہے اور فعال ہوتی ہے تو خوشی ہے، بلاول بھٹو کو پنجاب میں ویلکم کرتے ہیں، بلاول بھٹو نے لاہور میں اچھا جلسہ کیا ہے۔
علیم خان نے کہا کہ کوئی بھی جلسہ گاہ پیسوں کے زور پر نہیں بھری جاسکتی، پی ٹی آئی کے مینار پاکستان کے 4 جلسوں کا انچارج تھا، لوگ اپنی مرضی اور جذبے کے تحت پی ٹی آئی جلسے میں آتے تھے۔
سانحہ نو مئی سے متعلق آئی پی پی رہنما نے کہا کہ 9مئی کے کیسز میں ملوث نہ ہونے والوں کو ماحول مل رہا ہے، میری نظر میں پی ٹی آئی قیادت سے 9 مئی کا بلنڈر ہوا ہے۔



















