پاکستان اور کوریہ کے باہمی تعاون سے تین ملین ڈالرز کی لاگت سے مزید منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔
این اے آر سی میں کوپیا کی طرف سے آلو کے بیج کی کاشت کے منصوبے پر بریفنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈائریکٹر کوپیا ڈاکٹر چو نے آلو کے بیج کی کاشت کے منصوبے پر بریفنگ میں بتایا کہ کوپیا اور پی اے آر سی میں تعاون سے چار سال قبل ایرو پونک ٹیکنالوجی سے آلو کے بیج کی پیداوار کا منصوبہ شروع کیا گیا۔
منصوبے کے تحت قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں ایروپونک ٹیکنالوجی گرین ہاؤس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ منصوبے کے تحت پاکستان کی ضرورت کا 30 فیصد آلو کا بیج پیدا کیا جا رہا ہے۔
کوپیا اور پی اے آر سی کے مشترکہ منصوبے کے تحت مختلف شہروں میں کاشتکاروں کو بھی بیج فراہم کیا جا چکا ہے۔
منصوبے کے تحت وائرس فری بیج سے پاکستان میں آلو کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ منصوبے کے تحت پانچ سالوں میں آلو کا ایک لاکھ 60 ہزار ٹن آلو کا بیج پیدا کیا گیا۔
چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر غلام محمد علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کوپیا کے تعاون سے ایک ملین ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ تین ملین ڈالرز کی لاگت سے مزید منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
پاک کوپیا تعاون سے مزید 8 ملین سے زائد کے زرعی منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ کوپیا کے تعاون سے ایروپونک منصوبے کے تحت پاکستان کی ضرورت کا 30 فیصد آلو کا بیج حاصل کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین پی اے آر سی کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان میں اپنی ورائٹیز ڈویلپ کرنے اور انہیں کاشتکاروں تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔
پاکستان میں جنوبی کوریا کے سفیر پارک کی جون کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ زراعت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
بہترین آلو کی پیداوار کے منصوبے کی کامیابی پر ڈائریکٹر کوپیا اور چیئرمین پی اے آر سی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایروپونک منصوبہ پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان قریبی تعاون کا مظہر ہے۔
سفیر کا کہنا تھا کہ کوریا زراعت کے شعبے میں پاکستان سمیت دیگر ملکوں کو بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔
نگران وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں آلو کی کاشت اور پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ ایروپونک ٹیکنالوجی کی مدد سے وائرس فری بیج سے آلو کی پیداوار میں مزید اضافہ ہو گا۔
منصوبے سے قبل پاکستان میں آلو کی ضرورت کا صرف 2 فیصد بیج پیدا ہوتا تھا۔ پاکستان ایروپونک ٹیکنالوجی سے قبل اپنی ضرورت کا 98 فیصد بیج باہر سے درآمد کرتا تھا۔
امید ہے ایروپونک ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان آلو کے بیج کی پیداوار میں خود کفیل ہو جائے گا۔ زراعت کا شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
نگران وزیر فوڈ سیکیورٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زرعی ترقی کے منصوبوں کیلئے تعاون پر کورین حکومت کے شکر گزار ہیں۔



















