اسلام آباد: الیکشن 2024 میں خواتین ووٹر رجسٹریشن میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی فہرستوں میں ریکارڈ 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹر کا اندارج کیا گیا ہے، خواتین ووٹر رجسٹریشن میں اضافہ نمایاں رجحانات ہیں، تاہم ووٹرز کی تعداد اس وقت ملک کی آبادی کا 53.2 فیصد ہے جبکہ 2018 میں رجسٹرڈ ووٹرز کا تناسب 49.6 فیصد تھا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب میں 57 فیصد، خیبر پختونخوا میں 53 فیصد آبادی ووٹر ہے جبکہ سندھ اور اسلام آباد میں ووٹرز آبادی کا تقریباً 50 فیصد ہیں اور بلوچستان میں آبادی کا صرف 36 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 2018 میں ووٹرز کا صنفی فرق 11.8 فیصد تھا جو اب 7.7 فیصد ہوگیا ہے، 2018 کے بعد خواتین رجسٹریشن مردوں سے بڑھ گئی ہے۔
نئے رجسٹرڈ 2 کروڑ 25 لاکھ ووٹرز میں سے 1 کروڑ 25 لاکھ ووٹرز خواتین اور 1 کروڑ مرد ہیں، جن اضلاع میں صنفی فرق 2018 میں 10 فیصد سے زیادہ تھا وہ 85 سے کم ہو کر 24 رہ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقوں میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ تھا وہ 173 سےکم ہوکر 38 رہ گیا ہے، 12 قومی اسمبلی کے حلقے خیبر پختونخوا، 11 بلوچستان، 10 سندھ اور 5 پنجاب میں ہیں۔
اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ تھا وہ 398 سےکم ہوکر 102 ہوگیا ہے، سندھ کی 31، بلوچستان کی 30، خیبر پختونخوا کی 24 اور پنجاب کی 17 ہیں۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ صنفی فرق 50 لاکھ پنجاب میں ہے جبکہ سندھ میں 22 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 19 لاکھ ہے، ان میں مجموعی صنفی فرق 10 فیصد سے کم ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ 18 سے 25 سال اور 24 سے 35 سال میں 99 لاکھ کے مجموعی صنفی فرق میں 72 لاکھ ہے جبکہ اس گروپ میں مردوں اور خواتین ووٹرز میں 20 فیصد کا فرق سب سے زیادہ ہے، تاہم 99 لاکھ میں سے 48 لاکھ کا صنفی فرق ہے، 26 سے 35 سال میں مرد ووٹرز خواتین سے 8 فیصد زیادہ ہیں۔



















