Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلوچستان ایک بار پھر زلزلے سے لرز اٹھا

بلوچستان ایک بار پھر زلزلے سے لرز اٹھا ہے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب میں رات کے بعد صبح پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلے کی شدت 3.8 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گہرائی 24 کلو میٹر زیرِ زمین تھی۔

زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز ژوب سے 33 کلو میٹر شمال مشرق میں تھا۔

واضح رہے کہ رات گئے ضلع لورالائی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جس کی شدت 4.2 اور گہرائی 18 کلومیٹر بتائی گئی تھی۔

زلزلے کیوں اور کیسے آتے ہیں؟ 

ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔

زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔

زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔

پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

زلزلوں کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے؟

زلزلوں کی پیمائش کے لیے آج کل جو پیمانہ استعمال کیا جاتا ہے اسے ’مومنٹ میگنیچیوئڈ سکیل‘ کہا جاتا ہے۔

اس پیمانے پر دو اعشاریہ پانچ سے کم کی شدت کے جھٹکے کو محسوس نہیں کیا جا سکتا اور یہ آلہ اس کی پیمائش نہیں کر سکتا۔

تاہم پانچ تک کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور اتنی شدت کے زلزلے سے زیادہ نقصان نہیں ہوتا۔

سات اعشاریہ آٹھ کی شدت کے جھٹکے کو ایک ’بڑا‘ زلزلہ کہا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں عموماً خاصی تباہی ہوتی ہے۔

دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑا زلزلہ سنہ 1960 میں چلی میں آیا تھا جس کی شدت نو اعشاریہ پانچ ریکارڈ کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں