سنی اتحاد کونسل کے رہنما علی محمد خان نے بڑا اعلان کردیا ہے۔
سنی اتحاد کونسل کے رہنما علی محمد خان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 100 سے زائد نشستوں پر مینڈیٹ چرایا گیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں، راتوں رات نتائج تبدیل کیے گئے قوم اس کوقبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں معاملات معمول پرنہ ہوں توصوبوں میں بھی خرابی ہوگی، اسمبلی میں بہت سے ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو فارم47 کے مطابق جیتے ہیں، فارم 45 اور فارم 47 کے مطابق الیکشن جیتنے والوں میں فرق ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ کیا انصاف دینا صرف عدلیہ کا کام ہے، بیوروکریسی کس مرض کی دوا ہے، کیا بیوروکریسی ریاست کی ملازم ہے یا کسی حکومت کی غلام ہے۔
سنی اتحاد کونسل کے رہنما نے کہا کہ علی امین گنڈا پور نے جو گفتگو کی ہے اصولوں پر مبنی ہے، کسی پرایف آئی آر کٹی ہے ثبوت ہیں تو درست ورنہ ختم کی جائے گی، وزیراعلیٰ کے پی نے اسی لیے کہا غلط کیس بنائے ہیں تو اسے ختم کریں، کسی کیخلاف درست کیس ہے تو آگے بڑھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ غلط کیس بنے ہیں تو انہیں ختم ہونا چاہیے، جب غلط کیس بن رہے تھے ایک افسر نے بھی مخالفت نہیں کی، ریاستی اداروں پرحملہ ریاست پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔
علی محمدخان نے کہا کہ کیا مسلم لیگ ن کی قیادت کبھی تبدیل ہوئی ہے، ہماری پارٹی میں تو بانی پی ٹی آئی کی جگہ بیرسٹر گوہر آگئے ہیں، ہماری پارٹی میں تو اسد عمر کی جگہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری بن گئے، کیا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں کبھی تبدیلی ہوئی ہے۔
سنی اتحاد کونسل کے رہنما نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے لڑ رہے ہیں، سیاسی جماعتوں میں بات چیت ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمان سے دھاندلی کے ایشو پر بات چیت ہوئی ہے، فضل الرحمان بھی سمجھتے ہیں کہ فارم 45،47میں دھاندلی ہوئی۔
رہنما سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ جولوگ ووٹ کوعزت کی بات کرتے ہیں انہیں اخلاقی ہمت دکھانی چاہیے اور جو لوگ آج مینڈیٹ چوری کر رہے ہیں کل ان کا بھی مینڈیٹ چوری ہو سکتا ہے۔



















