سابق صدر عارف علوی نے اقتدار سے الگ ہوتے ہی بڑا اعلان کردیا ہے۔
پاکستان کے سابق صدر عارف علوی نے کراچی میں اپنی رہائشگاہ پہنچنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جوڑنے کے لیے بانی پی ٹی آئی کو رہا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دو سو مقدمات کا عدالت میں ٹرائل ہو، ملک کے مینڈیٹ کی قدر کی جائے، سیاسی جماعتوں کےمینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے۔
عارف علوی نے کہا کہ ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ ملک کو جوڑا جائے، پاکستان بڑے مشکل حالات سے گزررہا ہے، کرپشن کے خلاف رہا، یہ بنیادی اصول تھا، اس پر کار بند رہا، اپنی سیاست میں اصولوں کا پابند رہا ہوں۔
سابق صدر نے کہا کہ کوئی آئینی ماہر نہیں ہوں، آرٹیکل6 کے تحت میرے خلاف مقدمہ چلانا ہے تو چلائیں، لوگوں کے الزامات ہیں تو کورٹس موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشیدگی ختم ہونی چاہیے، حلفیہ کہتا ہوں خان صاحب سے جب بھی بات ہوئی، انہوں نے کہا میری کوئی ترجیح نہیں میرٹ میری ترجیح ہے۔
عارف علوی نے کہا کہ دوران صدارت بھی کہا بانی پی ٹی آئی میرے لیڈر ہیں اور رہیں گے، دنیا کی تاریخ میں یہ خوبی نہیں ملے گی کہ اس نے قوم کو جوڑا، وزیراعظم حلف اٹھاتا ہے کہ جس چیز کا عوام کو پتا چلنا چاہیے وہ عوام کو بتانا چاہیے، میرے خیال سے یہیں کام ہوا ہے۔
سابق صدر نے کہا کہ خواہ وہ کچھ بھی ہوں، ملک کو جوڑ دیا جائے یہ ملک ترقی کر سکتا ہے اور یہ ترقی کرے گا، اپنے وکلاء سے کہہ دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست دیں۔
انہوں نے کہا کہ الزامات لگانے والوں سے کہتا ہو کہ عدالتوں میں جائیں، سانحہ9مئی کو ہونے والی توڑ پھوڑ کے خلاف تھا اور خلاف ہوں، بانی پی ٹی آئی جیسا ایماندار لیڈر میں نے نہیں دیکھا۔
عارف علوی نے کہا کہ گزشتہ 2سال میری کارکردگی کو دیکھا جائے تو میں نے پوری کوشش کی، کوشش تھی اسٹیبلشمنٹ اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان پل کا کردار ادا کروں، میں نے پارٹی کے اعتبار سے نہیں،کام اپنے عہدے کی بنیاد پر کیا۔
سابق صدر عارف علوی نے کہا کہ میں اگر مینڈیٹ کی بات کر رہا ہوں تو وہ پارٹی کی بات نہیں، میں پاکستان کے لیے کام کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔



















