گزشتہ شب نوشکی میں اغوا کے بعد قتل کیے گئے 9 افراد کی نمازجنازہ ادا کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق 9 افراد کی نمازجنازہ پولیس لائن کوئٹہ میں ادا کی گئی۔
نمازجنازہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سمیت ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی و دیگر پولیس افسران شریک ہوئے۔
دہشتگردی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی لاشیں آبائی علاقوں کو بھجوائی جائیں گی، مقتولین کا تعلق گوجرانوالہ، وزیر آباد اور منڈی بہاؤالدین سے تھا۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے مسافر بس سے پنجاب کے 9 افراد کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا جبکہ فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور رکن صوبائی اسمبلی کے بھائی سمیت 5 زخمی ہو گئے۔
دہشت گردوں نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کو قریبی پہاڑوں میں لے جا کر گولیاں مار دیں، تاہم واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مرنے والے افراد کی لاشیں قریبی پہاڑی کے قریب پل کے نیچے سے برآمد کر لیں۔
اس حوالے سے ایس پی نوشکی اللہ بخش نے بتایا کہ نوشکی کے قریب بس سے اتار کر اغوا ہونے والے 9 افراد کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا، جن کا تعلق منڈی بہاوالدین اور گجرنوالہ سے تھا۔
ایس پی نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونے والے مزدود کوئٹہ سے تفتان جارہے تھے، تاہم مسلح افراد نے سلطان چڑھائی کے مقام پر ایک اور گاڑی پر بھی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں نوشکی سے تعلق رکھنے والے دو افراد جاں بحق ہوئے اور رکن اسمبلی غلام دستگیر کے بھائی سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔



















