اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پہلی بار ایران اور اسرائیل کی براہِ راست محاذ آرائی ہوئی ہے۔
ملیحہ لودھی نے ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جنگ خطے میں پھیلی تو پاکستان پر بھی اثرات ہوں گے، جنگ بڑھنا اسرائیل کے سوا کسی کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی تھی جس کے بعد ایران پر اندرون اور بیرونِ ملک سے بہت دباؤ تھا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب نے کہا کہ ایران نے صرف فوجی ٹارگٹس پر حملے کیے، شہری تنصیبات پر نہیں، ایران کا مقصد صرف اسرائیل کو خبردار کرنا تھا، اسرائیل چاہے گا کہ امریکا جنگ میں ملوث ہو جائے اور امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا جائے لیکن امریکا نہیں چاہے گا۔
ایران نے اسرائیل پر 200 سے زائد ڈرون اور کروز میزائلوں سے حملہ کردیا ہے۔
ایران نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر براہ راست ڈرون حملے کیے جس کی تصدیق ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی کر دی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے متعدد ڈرون گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ تہران اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا، اسرائیلی فضائی اڈے پر خیبر میزائلوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یورپی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حملوں کے بعد اسرائیل نے فوجی اڈے خالی کردیئے جبکہ اسرائیل میں خوف کی فضا ہے ، تمام اسکولز اور تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگری نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنی سرزمین سے اسرائیل کی سرزمین کی طرف بغیر پائلٹ کے طیارے روانہ کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف چند ایرانی میزائل اسرائیل کی سرزمین میں گرے جس سے فوجی اڈے اور انفراسٹرکچر کو معمولی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب ایرانی حملوں کے جواب میں امریکہ اور اردن نے اسرائیل کی مدد کرتے ہوئے کئی ایرانی ڈرونز مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
یاد رہے یکم اپریل کو اسرائیل کے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے سے خبردار کیا تھا۔



















