اسلام آباد: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیراعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے اور وفاقی حکومت اس لعنت سے نمٹنے کے لیے صوبوں کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے، دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایک اور توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
اجلاس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے ہمیشہ عوام پر بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ حکومت سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں اگلے پندرہ دن تک پینتالیس ارب روپے کا بوجھ برداشت کر رہی ہے۔
بعدازاں وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کے سامنے اپوسٹیل آرڈیننس 2024 اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2022 پیش کی۔



















